رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 125 of 169

رسالہ درود شریف — Page 125

رساله درود شریف ۲۳۰ ۲۳۱ ذلك فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔کہ آنحضرت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔کہ آنحضرت میم نے فرمایا جس (اہم) کلام سے پہلے اللہ تعالی کا ذکر اور اس کے بعد مجھ پر درود م نے فرمایا جب وضو کر چکو۔تو پہلے کلمہ شہادت پڑھو۔اور اس کے بعد نہ ہو۔وہ بے خیر اور برکت سے خالی ہو گا۔مجھ پر درود بھیجو۔ایسا کرنے سے (اس) رحمت الہی کے دروازے کھل جاتے احباب کی باہم ملاقات کے وقت ہیں (جس کے لئے وضو کیا جاتا ہے۔یعنی نماز کو صحیح طور پر ادا کرنے کی توفیق ملتی ہے) صبح و شام جلاء الافہام میں بحوالہ طبرانی مروی ہے:۔(۳۸) عَنْ أَبِي الْدَرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ حِيْنَ يُصْبِحُ عَشْرًا وَحِينَ يُمْسِي عَشْرًا أَدْرَكَتْهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ الله حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت میم نے فرمایا۔جو شخص روزانہ صبح و شام مجھ پر دس دس بار درود بھیجے گا۔اسے قیامت کے روز میری شفاعت نصیب ہو گی۔ہر ایک اہم کلام سے پہلے جلاء الافہام میں بحوالہ ابو موسیٰ مدینی مردی ہے:۔جلاء الافہام میں بحوالہ مسند ابو یعلی موصلی مردی ہے:۔(٥٠) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ عَبُدَيْنِ مُتَحَابَّيْنِ يَسْتَقْبِلُ اَحَدُهُمَا الأَخَرَ يُصَلِّيَانِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا لَمْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُمَا ذُنُوبُهُمَا مَا تَقَدَّمَ مِنْهَا وَمَا تاخر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔کہ آنحضرت میں نے فرمایا خدا کے جو دو بندے ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے باہم ملاقات کے وقت خدا تعالیٰ کے نبی م پر درود بھیجیں گے۔ان کے الگ ہونے سے پہلے ان کے سب گناہ اور قصور معاف کر دیئے جائیں گے۔تقدیم کے بھی اور تاخیر کے بھی۔دیگر بعض مواقع ان کے علاوہ خطبوں میں۔اقامت نماز کے بعد۔اور نماز عید (۳۹) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ كَلَامِ لَا يُذْكَرُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَيُبْداً تکبیرات کے درمیان درود شریف کا پڑھنا بھی احادیث سے مسنون ثابت يه وبالصَّلوة عَلَى فَهُوَ أقْطَعُ مَشْحُوقَ مِنْ كُلّ بَرَكَةٍ۔ہوتا ہے۔اور حج اور عمرہ میں صفا و مردہ پر پہنچ کر۔حجراسود کی تقبیل کے