رسالہ درود شریف — Page 116
رساله درود شریف ( یہ فرمایا کہ ) شفیع ہونگا۔۲۱۲ اور موطا امام مالک میں مذکور ہے۔کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ۔عنہ نے آنحضرت علی کی قبر پر جا کر آپ پر درود بھیجا۔اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنما کو بھی اس میں شامل کیا۔واللہ اعلم بالصواب ہر ایک مجلس میں آنحضرت میل پر درود بھیجنے کی تاکید (٢٠) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اجْتَمَعَ قَوْم ثُمَّ تَفَرَّقُوا عَنْ غَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَصَلَوَةٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله عَليْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَامُوا عَنْ أَنْتَنِ حِيْفَةٍ - (جلاء الافهام بحوالہ سنن کبیر نسائی) ترجمہ۔حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت میں نے فرمایا۔جس مجلس میں لوگ جمع ہوں اور اس میں اللہ تعالی کا ذکر کرنے اور خدا کے نبی امی پر درود بھیجنے کے بغیر چلے جائیں۔وہ ایک نہایت سڑے ہوئے اور سخت بدبودار مردار کی طرح ہو گی۔اور اس میں شامل ہو نیوالے لوگ مردار خور جانوروں میں شمار ہونے کے قابل ہوں گے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو چاہئے کہ خواہ کسی قدر تکلف سے کام لینا پڑے تاہم ہر ایک مجلس میں کوئی نہ کوئی تقریب پیدا کر کے اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی حمد و ثناء کرنا اور آنحضرت امام ذکر کرنا اور آپ پر درود بھیجنا چاہئے۔اور جس شخص کے اندر یہ جذبہ نہیں ۲۱۳ رساله درود شریف وہ انسان کہلانے کا مستحق ہی نہیں۔بلکہ وہ دنیا کا کتا ہے جس کی نظر میں سوائے اس مردار کے اور کچھ ہے ہی نہیں۔(نعوذ باللہ من ذالک) تمام انبیاء پر درود بھیجنے کی ہدایت (۳۱) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَّوا عَلَى أَنْبِيَاءِ اللهِ وَرُسُلِهِ فَإِنَّ اللهَ بَعَثَهُمْ كَمَا بَعَثَنِي (جلاء الافہام بحوالہ مسند ابن ابی شیبه ) ترجمہ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ہیلی نے فرمایا۔اللہ تعالی کے تمام انبیاء اور رسل پر درود بھیجا کرو۔کیونکہ جس طرح اس نے مجھے بھیجا ہے۔اسی طرح اس نے انہیں بھی بھیجا تھا۔اَللّهُمَّ صَلِّ عَلى سَيّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى سَائِرِ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ وَعَلَى جَمِيعِ عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ وَبَارِكْ وَسَلَّمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ پس آنخفه درود شریف کے بعض خاص مواقع درود شریف ایک دعا ہے اور دعا بھی وہ جو تمام دعاؤں کی سردار ہے۔اور دعائیں ذکر الہی میں داخل ہیں۔اور ذکر الہی ہر حالت میں کیا جا سکتا ہے۔آنحضرت م پر درود ہر وقت اور ہر حالت میں بھیجا جا سکتا ہے اور اس کے لئے کسی قسم کی حد بندی نہیں ہے۔ہاں جس طرح بعض مواقع پر خصوصیت کے ساتھ عام دعا ئیں اور ذکر الہی کرنے کا حکم ہے۔اسی طرح بعض مواقع پر درود شریف بھی خاص طور پر پڑھنے کا حکم ہے، ایسے بعض