رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 62 of 169

رسالہ درود شریف — Page 62

رساله درود شریف ۱۰۴ اور نبی کی شان میں استعمال نہ کی۔آپ کی روح میں وہ صدق و صفا تھا۔اور آپ کے اعمال خدا کی نگاہ میں اس قدر پسندیدہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے یہ حکم دیا۔کہ آئندہ لوگ شکر گزاری کے طور پر درود بھیجیں۔ان کی ہمت اور صدق وہ تھا۔کہ اگر ہم اوپر یا نیچے نگاہ کریں۔تو اس کی نظیر نہیں ملتی" از حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام بحوالہ اخبار الحکم جلدے نمبر ۲۵ پرچه ۱۰ جولائی ۱۹۰۲ء صفحہ ۲) وحی و کشوف و رویائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام درباره درود شریف (۱) وَأَمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَالِ مُحَمَّدٍ الصَّلَوةُ هُوَ الْمُرَتِي (براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد ا صفحه (۲۶۷) نیک کاموں کی طرف رہنمائی کر۔اور برے کاموں سے روک۔اور محمد اور آل محمد م پر درود بھیج۔درود ہی تربیت کا ذریعہ ہے۔(۳) صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ سَيْدِ وُلدِ آدَمَ وَخَاتَمِ " درود بھیج محمد اور آل محمد پر جو سردار ہے آدم کے بیٹوں کا اور خاتم الانبیاء ہے۔" یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے۔کہ یہ سب مراتب اور تفضلات اور عنایات اسی کی طفیل سے ہیں۔اور اسی سے محبت کرنے کا صلہ ہے۔سبحان ۱۰۵ رساله درود شریفه اللہ اس سرور کائنات کے حضرت احدیت میں کیا ہی اعلیٰ مراتب ہیں اور کس قسم کا قرب ہے۔کہ اس کا محب خدا کا محبوب بن جاتا ہے۔اور اس کا خادم ایک دنیا کا مخدوم بنایا جاتا ہے۔محبوبے نہ ماند ہیچو یار دلبرم مهر و مه را نیست قدری در دیار دلبرم آل کجا روئے کہ دارد بیچو رویش آب و تاب واں کجا باغے کہ مے دارد بهار دلبرم اس مقام پر مجھ کو یاد آیا۔کہ ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہو گیا۔اسی رات خواب میں دیکھا۔کہ آب زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں۔اور ایک نے ان میں سے کہا۔کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد کی طرف بھیجے تھے۔اسلامی اور ایسا ہی عجیب ایک اور قصہ یاد آیا ہے۔کہ ایک مرتبہ الہام ہوا۔جس کے معنی یہ تھے کہ ملاء اعلی کے لوگ خصومت میں ہیں۔یعنی ارادہ الہی احیاء دین کے لئے جوش میں ہے لیکن ہنوز ملاء اعلیٰ پر شخص می کی تعیین ظاہر نہیں ہوئی۔اس لئے وہ اختلاف میں ہے۔اسی اثنا میں خواب میں دیکھا۔کہ لوگ ایک محیی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں۔اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا۔اور اشارہ سے اس نے کہا هَذَا رَجُلٌ يُحِبُّ رَسُولُ الله یعنی یہ وہ آدمی ہے۔جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے۔اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرط اعظم اس عہدہ کی محبت رسول ہے۔سودہ