رسالہ درود شریف — Page 59
رساله درود ٩٩ رساله درود شریف 03 یار لامکانی وہ دلبر نهانی دیکھا ہے ہم نے اس نے اس سے بس رہنما یہی ہے وہ آج شاہ دیں ہے وہ تاج مرسلیں ہے وہ طیب و امیں ہے اس کی ثناء یہی ہے حق سے جو حکم آئے اس نے وہ کر دکھائے جو راز تھے بتائے نعم آنکھ اس کی دور میں ہے، دل یار سے قریب ہے ہاتھوں میں شمع دیں ہے عین الضیاء یہی ہے العطا نہیں ہے جو راز دیں تھے بھارے اس نے بتائے سارے دولت کا دینے والا فرماں روا کی ہے 05 اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے دلبر یگانہ علموں کا خزانه ہے باقی ہے سب فسانہ سچ بے خطا یہی ہے سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا وہ جس نے حق دکھایا وہ میر لقا کی ہے ہم تھے دلوں کے اندھے سو سو دلوں پر پھندے پھر کھولے جس نے جندے وہ مجتبی یہی ہے ( قادیان کے آریہ اور ہم۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۵۶) مصطفیٰ تیرا بید اس سے ايضاً ہو سلام اور رحمت نور لیا بار خدایا ہم نے ربط ہے جان محمد سے مری جان کو مدام ده دل کو اس سے بہتر نظر آیا نہ کوئی عالم میں لاجرم غیروں سے دل اپنا چھڑایا ہم نے جام لبالب ہے پلایا ہم نے تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے تیری الفت سے ہے معمور مرا ہر ذرہ اپنے سینے میں یہ اک شہر بسایا ہم نے نقش ہستی تری الفت سے مٹایا ہم نے اپنا ہر ذرہ تری رہ میں اڑایا ہم نے شان حق تیرے شمائل میں نظر آتی ہے تیرے پانے سے ہی اس ذات کو پایا ہم نے چھو کے دامن تیرا ہر دام سے ، ملتی ہے نجات لا جرم در په ترے سر کو جھکایا ہم نے دلیرا مجھ کو قسم ہے تیری یکتائی کی آپ کو تیری محبت میں بھلایا ہم نے بخدا دل سے مرے مٹ گئے سب غیروں کے نقش جب سے دل میں یہ ترا نقش جمایا ہم نے