رسالہ درود شریف — Page 57
رساله و رود شریف ۹۴ تمام انبیاء آنحضرت کے طفیلی ہیں موسیٰ و عیسی ہمہ خیل تو اند جمله دریس راه طفیلی تو اند ( آئینہ کمالات اسلام - روحانی خزائن جلد صفحه ۱۶۴) ایضا در عظمت شان و برکات اتباع و ذکر عشق نبوی آں رسولے کش محمد ہست نام دامن پاکش بدست ما مدام مهر او با تیر شد اندر بدن جاں شد و باجان بدر خواهد شدن بست او خیر الرسل خیر الانام ہر نبوت را برو شد اختام ما از و نوشیم ہر آہے کہ ہست زوشده سیراب میرا بے کہ ہست (1) موسی اور عیسی (اور دوسرے تمام انبیاء) آپ کے گلہ کی بھیڑیں یا آپ کی فوج کے چابک سوار ہیں۔اور اس راہ میں آپ کے طفیلی۔(1) وہ رسول جس کا نام محمد ) میں یا ہو رہا ہے۔اس کا پاک دامن ہر وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔(۲) آپ کی محبت ماں کے دودھ کے ساتھ یعنی پیدائش کے دن سے میرے وجود کے اندر داخل شدہ ہے۔اس لئے آپ کی محبت جان بن گئی ہے اور مرنے کے وقت جان کے ساتھ ہی جائے گی۔(۳) آپ تمام رسولوں سے اور تمام خلقت سے بہتر ہیں۔نبوت کا ہر ایک شعبہ آپ پر ختم ہے۔(۴) فیضان اللی کا ہر ایک پانی ہم آپ کے طفیل پیتے ہیں۔جو بھی سیراب ہوا ہے رسالہ آنچه ما را وحی و ایمائ بود آن نه از خود از ہماں جائے بود ما از و یا بیم هر نور و کمال وصل دلدار ازل بے او محال اقتدائے قول او در جان ماست هرچه زو ثابت شود ایمان ماست الغرض فرقان مدار دین ماست او انیس خاطر غمگین ماست همچنین عشقم بروئے مصطفی مصطفی دل پرو چوں مرغ سوئے مصطفیٰ تا مرا دادند از حسنش خبر شد دلم از عشق او زیر و زبر (۵) جو بھی ہمیں وحی یا اشارہ ہوتا ہے۔وہ براہ راست نہیں بلکہ آپ ہی کے فیضان سے ہوتا ہے۔(۶) ہر ایک نور اور کمال ہم آپ ہی سے پاتے ہیں۔خدا تعالی کا وصل بغیر آپ کے ناممکن ہے۔(۷) آپ کے فرمودہ کی پیروی کرنا ہماری جان میں داخل ہے۔جو بات آپ کی طرف سے ثابت ہو جائے اس پر ہمارا ایمان ہے۔(۸) الغرض قرآن شریف پر ہمارے دین کا دار ومدار ہے۔وہ ہمارے غمگین دل کا انیس ہے۔(۹) اسی طرح مصطفی میں کا مجھے عشق ہے۔میرا دل مصطفی کی طرف پرندے کی طرح پرواز کرتا ہے (۱۰) جب سے میں آپ کے حسن سے آگاہ ہوا ہوں۔تب سے میرا دل آپ کے عشق سے پریشان اور سراسیمہ ہے۔آپ ہی سے ہوا ہے۔