رسالہ درود شریف — Page 55
ر ساله درود شریف ۹۰ خدایش چو خوانده گواہ جہاں چرا داندش عاقل از غائبان بمهر منیرش خطاب از خدا است دریغا ازین پس گمانها چرا ایضا در عشق آنحضرت مال ست (اخبار بدر جلد ۸ نمبر ۲۷) بعد از خدا بعشق محمد محمرم گر کفر ایس بود بخدا سخت کافرم از خود تهی و از غم آن دلستاں پرم ہر تار و پود من بسراید بعشق او جانم خدا شود بره دین مصطفی این است کام دل اگر آید میسرم (ازالہ اوہام - روحانی خزائن جلہ صفحہ ۱۸۵) (۷) جب خدا تعالٰی نے اس کا نام گواہ جہان رکھا ہے۔تو کوئی عظمند شخص اسے غائب کیوں سمجھنے لگا۔ہیں۔(۸) خدا تعالٰی نے اس کو مہر منیر فرمایا ہے۔پھر اس قسم کی بدگمانیاں کیوں کی جاتی (1) خدا کے بعد میں محمد ( م ) کے عشق میں سرشار ہوں۔اگر کفر یہی ہوتا کفریہی ہے تو خدا کی قسم میں سخت کافر ہوں۔(۲) میرا ہر رگ وریشہ اس کے عشق کے راگ گاتا ہے۔میں اپنے آپ خالی اور اس محبوب کے غم سے بھرا ہوا ہوں۔(۳) میری جان مصطفیٰ کے دین کی راہ میں خدا ہو جائے۔یہ ہے میرا دلی مقصد خدا کرے پورا ہو۔۹۱ ايضا در عظمت شان آنحضرت مال العالم رساله درود شریف محمد میں نقش نور خدا است کہ ہرگز چنو بگیتی نخاست تمی بود از راستی هر دیار بکردار آن شب که تاریک و تار خدا ئیش فرستاد و حق گسترید زمین را بدان مقدمے جاں دمید نهایست از باغ قدس و کمال ہمہ آل او پہنچو گلہائے آل ( براحسین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد ا صفحه ۸۵) ایضا در عظمت شان و برکات عشق و اتباع نبوی سید شاں آنکه نامش مصطفی است رہبر ہر زمره صدق وصفا است می درخشد روئے حق در روئے او ہوئے حق آید ز بام و کوئے او خدا تعالی کے نور کا سب سے بڑا نقش ہے کہ آپ جیسا کوئی فرد کبھی دنیا (1) محمد خدا میں پیدا نہیں ہوا۔(۲) ہر ایک ملک سچائی سے خالی تھا اور اس رات کی طرح تھا جو بالکل تاریک ہو۔(۳) خدا تعالٰی نے اس کو بھیجا اور سچائی کو پھیلایا۔اس (راستی مجسم کی آمد سے (مردہ) زمین میں جان آگئی۔(۴) آپ قدس اور کمال کے باغ کا ایک پودا ہیں۔آپ کی تمام اولاد سرخ پھولوں کی طرح ہے۔(1) ان کا سردار جس کا نام مصطفیٰ ہے۔ہر ایک صدق و صفا والے گروہ کا سردار ہے۔(۲) آپ کے چہرہ میں خدا تعالٰی کا چہرہ چمکتا ہے۔آپ کے درو دیوار سے خدا تعالی کی خوشبو آتی ہے۔