رسالہ درود شریف — Page 53
رساله درود شریف AY ایضا در عظمت شان و برکات اتباع نبوی اں شہ عالم که نامش مصطفیٰ سید عشاق حق شمس الضحیٰ آنکہ ہر نورے طفیل نور اوست آنکه منظور خدا منظور اوست آن که بهر زندگی آب رواں در معارف ہیچو بحر بیکراں آنکه بر صدق و کمالش در جہاں دلیل و حجت روشن عیاں آنکہ انوار خدا بر روئے او مظهر کار خدائی کوئے او آنکه جمله انبیا و راستان راستان خادمانش ہمچو خاک آستاں صید (1) وہ تمام جہان کا بادشاہ جس کا نام مصطفی ہے جو خدا تعالیٰ کے عاشقوں کا سردار اور شمس الضحی ہے۔(۲) وہ ہر ایک نور جس کے نور کے طفیل سے ہے۔آپ کی یہ شان ہے کہ آپ کا منظور نظر خدا کا منظور نظر ہے۔(۳) جو زندگی کے لئے آب حیات ہے اور حقائق اور معارف میں نا پیدا کنار سمندر ہے۔(۴) آپ کی سچائی اور آپ کے کمال پر دنیا میں صدہا روشن دلائل اور ثبوت موجود ہیں۔(۵) آپ کے چہرہ پر خدا تعالٰی کے انوار برس رہے ہیں۔آپ کا کوچہ خدائی کاموں کا مظہر ہے۔(1) تمام انبیاء اور راستباز خادم بنگر دہلیز کی مٹی کی طرح آپ کے دروازہ پر AL رساله درود شریف آنکہ مرش می رساند تا سما می رساند تا کما میکند چون ماه تاباں در صفا طرح بنا دیتی ہے۔ہر ے دہد فرعونیاں را ہر زماں چوں ید بیضائے موسے صد نشاں در شے پیدا شود روزش کند در خزان آید دل افروزش کند مظهر انوار آں بیچوں بود در خرد از هر بشر افزوں بود اتباعش آن دهد دل را کشاد کش نه بیند کس بصد ساله جهاد اتباعش دل فروزد جاں دہر جلوه از طاقت یزدان دهد اتباعش سینه نورانی کند با خبر از یار پنهانی کند (۷) آپ کی محبت آسمان پر پہنچا دیتی ہے اور صدق و صفا میں چمکنے والے چاند کی (۸) آپ فرعون کی سیرت والے لوگوں کو ہر دم موئنے کے ید بیضا کی طرح کے صد ہا نشان دکھاتے ہیں۔(۹) جب آپ رات کے وقت (یعنی تاریکی کے زمانہ میں) اپنا چہرہ دکھائیں تو اسے دن بنا دیتے ہیں۔اور خزاں کے موسم میں آکر اسے بہار دکھتا بنا دیتے ہیں۔(۱۰) وہ خدا تعالیٰ کے انوار کا مظہر ہے۔اور دانائی میں ہر انسان سے بڑھ کر ہے۔(11) اس کی اتباع دل کو ایسی کشادگی عطا کرتی ہے جو کسی کو سو برس کے مجاہدہ سے بھی حاصل نہیں ہوتی۔(۱۲) اس کی اتباع دل کو روشن کرتی ہے اور مردوں میں جان ڈالتی ہے۔خدا تعالی کی طاقت کا ایک جلوہ دکھاتی ہے۔(۱۳) اس کی اتباع سینہ کو منور کرتی ہے اور اس دراء الوراء ہستی تک پہنچنے کی را ہیں بتا دیتی ہے۔پڑے ہیں۔