رسالہ درود شریف — Page 52
رساله درود شریف ۸۴ ايضا در عظمت و رفعت شان آنحضرت اختاری افتاد شان احمد را که داند جز خدا وند کریم آنچنان از خود جدا شد کز میاں زاں نمط شد محو دلبر کز کمال اتحاد پیکر او شد سراسر صورت رب رحیم ہوئے محبوب حقیقی میدید زاں روئے پاک ذات حقانی صفاتش مظهر ذات قدیم گرچه منسوبم کند کس سوئے الحاد و ضلال چوں دل احمد نمی بینم دگر عرش عظیم (1) احمد کی شان کو خدا تعالیٰ کے سوا اور کون جانتا ہے۔وہ خودی سے ایسا جدا ہوا کہ اس وصف میں یکتا ہو گیا۔(۲) وہ دلبر میں کچھ ایسا محو ہوا کہ (اس کا کوئی الگ وجود نہ رہا حتی کہ ) کمال اتحاد کی وجہ سے اس کا وجود خدا تعالی ہی کا وجود ہو گیا۔(۳) اس پاک چہرہ سے محبوب حقیقی کی خوشبو آتی ہے۔اس کی خدائی صفات والی ذات خدا تعالی کی مظہر ہے۔(۴) خواہ کوئی مجھے محمد اور گمراہ ہی کیوں نہ کیے میں تو یہی کہوں گا کہ میں احمد کے دل جیسا کوئی اور عرش عظیم نہیں جانتا۔احدیت سے مراد خدائی یا وحدت وجود نہیں۔بلکہ اس وصف (از خود جدا شدن) میں یکتائی مراد ہے (از حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام۔بروایت حکیم مولوی محمد الدین گوجرانوالہ - حال قادیان)۔AD رساله درود شریف ایزد را که من بر رغم اہل روزگار صد بلا را میخرم از ذوق آن عین النعیم از عنایات خدا و ز فضل آن دادار پاک دشمن فرعونیانم بهر عشق آن کلیم آن مقام و رتبت خامش که بر من شد عیاں گفتم گر دیدے طعے دریں راہے سلیم در عشق محمد ایس سر و و جانم رود ایں تمنا ایں دعا این در این در دلم عزم صمیم توضیح مرام - روحانی خزائن جلد صفحه ۷۳۰۶۲) (۵) خدا تعالیٰ کا احسان ہے کہ میں تمام بدخواہ) لوگوں کے ارادوں اور خواہشوں کے خلاف اس نعمتوں کے چشمہ کے مزے حاصل کر رہا ہوں اور اس کے لئے ہر ایک طرح کی مصیبت کو عین راحت سمجھ کر اسے اختیار کر رہا ہوں۔(1) خدا تعالی کے فضل اور اس کی عنایتوں سے میں اس موسیٰ کے عشق کی وجہ سے خود موسیٰ بن کر فرعونی گروہ کے مقابل پر کھڑا ہوں۔(۷) اس کا وہ مقام اور خاص رتبہ جو مجھ پر ظاہر ہوا ہے میں بتلا دیتا اگر اس راہ میں کوئی سلیم طبع والا میں دیکھتا۔(۸) محمد ( میں اس کے عشق میں میرا یہ سر اور جان چلی جائے۔یہی میری تمنا ہے یہی میری دعا ہے اور یہی میرے دل کا پکا ارادہ ہے۔