رسالہ درود شریف — Page 39
رساله درود شریف ۵۸ بهر حق داماں زغیرش برفشاند ٹانے او نیست در بحر و برے اں چراغش داد حق کش تا ابد نے خطر نے غم زیاد صرصرے پہلوان حضرت رب جلیل برمیاں بستہ زشوکت خنجرے تیر او تیزی بهر میدان نمود تیغ او ہر جا نمودہ جو ہرے کرد ثابت ہر جہاں عجز بتاں وا نموده زور آن یک قادری تا نماند بے خبر از زور حق بہت ستاؤ بت پرست و بت گرے عاشق صدق و سداد و راستی دشمن کذب و فساد و هر شرے (۱۳) خدا کے لئے خدا کے غیر سے اس نے اپنا دامن خالی کر دیا۔تری اور خشکی میں اس کا کوئی ثانی نہیں ہے (۱۴) خدا تعالیٰ نے اس کو ایک ایسا چراغ دیا ہے کہ ہمیشہ کے لئے اس چراغ کو کسی آندھی سے بجھنے کا کوئی خطرہ اور غم نہیں ہے۔(۱۵) وہ خدا تعالیٰ کا پہلوان ہے اپنی کمر پر شوکت اور رعب کی تلوار باندھے ہوئے۔(۱۶) لڑائی کے ہر ایک میدان میں اس کے تیر نے اپنی تیزی دکھائی ہے۔اس کی تلوار نے ہر ایک مقام پر اپنی کاٹ کا جو ہر دکھایا ہے۔(۱۷) تمام دنیا کے لوگوں پر اس نے بتوں کا عاجز ہونا ثابت کر دیا اور خداوند مقتدر کا زور اس نے کھول کر دکھلا دیا ہے۔(۱۸) تاکہ کوئی بتوں کی تعریف اور پرستش کرنیوالا اور بت بنانے والا خدا تعالیٰ کی طاقت سے بے خبر نہ رہے۔(19) سچائی اور راستی اور کی بات کا عاشق اور جھوٹ اور فساد اور ہر ایک برائی کادشمن۔۵۹ رساله درود شریف خواجه و مر عاجزان را بنده بادشاه و بیکساں را چاکرے اں ترحمها که خلق از دے بدید کس ندیده در جهان از مادری از شراب شوق جاناں بیخودی در سرش برخاک بنهاده سری روشنی از دے بهر قومی رسید نور او رخشید بر ہر کشورے آیت رحماں برائے ہر بصیر حجت حق بہر ہر دیدہ درے ناتوانان را برحمت دستگیر خستہ جاناں را به شفقت غمخور حسن روکش به زماه و آفتاب خاک کوئش به ز مشک و عنبری (۲۰) آقا ہو کر عاجزوں کی غلامی اختیار کرنے والا۔بادشاہ ہو کر بے کسوں کا خادم۔(۲۱) جو شفقت اور محبت خلق خدا نے اس سے دیکھی ہے، دنیا میں کسی نے اپنی ماں کی طرف سے بھی نہیں دیکھی۔(۲۲) اپنے محبوب کی محبت کے نشہ میں اپنے آپ سے بے خبر اس کی یاد میں کر بہ سجود (۲۳) اس کی روشنی ہر ایک قوم کو پہنچی۔اس کا نور ہر ایک ملک پر چمکا۔(۲۴) وہ ہر ایک بینا کے لئے خدا تعالٰی کا ایک نشان ہے۔اور ہر ایک دیکھنے والے کے لئے خدا تعالی کی ہستی کی حجت ہے۔(۲۵) کمزورں پر رحم کر کے ان کا ہاتھ پکڑنے والا شکستہ دلوں کی شفقت سے غمخواری کرنے والا۔(۲۷) اس کے چہرہ کا جمال چاند اور سورج سے بڑھ کر ہے۔اس کی گلی کی مٹی مشک اور خیبر سے بہتر ہے۔