رسالہ درود شریف — Page 38
رساله درود شریف ۵۶ ایضاً بزبان فارسی درباره عظمت شان و کمال فیضان و شفقت و برکات محبت و اتباع نبوی ور آنکه در خوبی ندارد ہمیرے بر دلم جوشد ثنائے سرورے آنکه جانش عاشق یار ازل آنکہ روحش واصل آن دلبرے آنکه مجذوب عنایات حققت ہمچو طفلے پروریده در برے د کرم بحر عظیم آنکه در لطف اتم یکتا درے آنکه در فیض و عطا یک خاوری در جود و سخا ابر بہار آنکه آنکه ور پر ر (1) میرے دل میں ایک سردار کی ثنا جوش مار رہی ہے جو خوبی میں اپنا کوئی ہمسر نہیں رکھتا (۲) جس کی جان یار ازل (خدا تعالی) کی عاشق ہے۔اور جس کی روح اس دلبر سے وصل رکھتی ہے۔(۳) جس کو خدا تعالیٰ کی عنایتوں نے اپنی طرف کھینچ لیا اور بچے کی طرح اپنی گود میں پالا۔(۴) جو نیکی اور بخشش میں ایک بڑا سمندر ہے اور کامل مہربانی میں یکتا موتی (کی طرح) ہے (جس کی نظیر نہ ہو)۔(۵) جو سخاوت کرنے میں موسم بہار کا بادل ہے اور جو فیض اور عطا ( کے آفتاب ، تاب) کا مشرق ہے۔رساله درود شریف اں رحیم و رحم حق را ایتے آن کریم و جود حق را مظہرے آن رخ فرخ که یک دیدار اد زشت رو را میکند خوش منظرے آن دل روشن که روشن کرده است صد درون تیره را چون اختری اں مبارک پے کہ آمد ذات او رحمتے زاں ذات عالم پرورے احمد آخر زماں کر نور او شد دل مردم زخور تاباں ترے از بنی آدم فزوں تر در جمال و ز لالی پاک تر در گوہرے بر لبش جاری زحکمت چشمیه در دلش پر از معارف کوثرے (۶) جو رحیم ہے اور خدا تعالیٰ کی رحمت کا نشان ہے۔جو کریم ہے اور خدا تعالٰی کی بخشش اس کے وجود میں ظاہر ہوئی ہے۔(۷) وہ مبارک چرہ جس کو ایک دفعہ دیکھ لینا بد صورت کو خوش شکل بنا دیتا ہے۔(۸) وہ دل روشن کہ جس نے بیشمار ایسے دلوں کو جو سیاہ تھے ستارہ کی طرح روشن کر دیا ہے۔(۹) وہ مبارک قدم جس کا وجود رب العالمین کی طرف سے مجسم رحمت بن کر (۱۰) اس سردار کا نام احمد آخر زمان ہے۔جس کے نور سے لوگوں کے دن سورج سے بھی زیادہ چمکنے والے بن گئے۔(10) وہ آدم کی اولاد میں سے سب سے بڑھ کر صاحب جمال ہے۔اور اپنی اصلیت میں موتیوں سے بھی زیادہ پاک ہے۔آیا ہے۔(۱۲) اس کے ہونٹوں پر حکمت کا چشمہ جاری ہے۔اس کے دل میں حقائق اور معارف سے بھرا ہوا ایک کوثر ہے۔