رسالہ درود شریف — Page 34
رساله درود شریف ۴۸ حُمْقُ الْحِمَارِ وَ وَثَبَةُ السّوحَانِ جہالت سے دو عیب تو ان کے شامل حال تھے۔اڑ گدھے کی اور حملہ بھیڑیے کا۔فَطَلَعْتَ يَا شَمْسَ الْهُدَى نُصْحًا لَّهُمْ لتُضِيْتَهُمْ مِنْ وَجْهِكَ النُّوْرَانِي اتنے میں اے آفتاب ہدایت ان کی خیر خواہی کے لئے تو نے طلوع کیا کہ اپنے نورانی چہرہ سے انہیں منور کرے۔أرْسِلْتَ مِنْ رَّبِّ كَرِيمٍ مُّحْسِنِ فِي الْفِتْنَةِ الصَّمَّاءِ وَ الطُّغْيَانِ تو خوفناک فتنے اور طغیان کے وقت خداوند کریم کی طرف سے بھیجا يَا لَلْفَتَى مَا حُسْنَةَ وَ جَمَالُهُ رَيَّاهُ يُصْبِي الْقَلْبُ كَالرَّيْحَانِ واہ کیا ہی خوش شکل اور خوبصورت جوان ہے جس کی خوشبو دل کو ریحان کی طرح شیفتہ کر لیتی ہے۔وَجْهُ الْمُهَيْمِن ظَاهِرُ فِي وَجْهِهِ وَ شُونُهُ لَمَعَتْ بِهَذَا الشَّانِ اس کے چہرہ سے خدا کا چہرہ نظر آتا ہے اور اس کی شان سے خدا کی شان نمایاں ہو گئی ہے۔فَلِذَا يُحَبُّ وَ يَسْتَحِقُ جَمَالُهُ شَغَفَّا بِهِ مِنْ زُمْرَةِ الْأَخْدَانِ ۴۹ رساله درود شریف اسی لئے وہ محبوب ہے اور اس کا جمال اس لائق ہے کہ تمام دوستوں کو چھوڑ کر اسی کے جمال سے دلبستگی پیدا کی جائے۔سُجُحُ كَرِيمٌ بَاذِلُّ حَلُّ التَّقَى خِرْقَ وَ فَاقَ طَوَائِفَ الْفِتْيَانِ خوش خو کریم ، سخی، عاشق تقوی، کریم الطبع اور تمام احیاء سے بڑھ کرخی۔ģ فَاقَ الْوَرُى بِكَمَالِهِ وَ جَمَالِهِ جلاله وَجَنَانِهِ الرَّيَّانِ اپنے کمال اور جمال اور جلال اور تازگی دل کے سبب سے تمام مخلوق سے بڑھا ہوا ہے۔ہیں۔لا شك أنَّ مُحَمَّدًا خَيْرُ الْوَرى رَيْقُ الْكِرَامِ وَ نُحْبَةُ الْأَعْيَانِ بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم خیر الوری، برگزیدہ کرام اور چیدہ اعیان تَمَّتْ عَلَيْهِ صِفَاتُ كُلّ مَرِيَّةٍ خُتِمَتْ به نَعْمَاءُ كُلِّ زَمَانٍ ہر قسم کی فضیلت کی صفتیں آپ کے وجود میں اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہیں اور ہر زمانہ کی نعمتیں آپ کی ذات پر ختم ہیں۔وَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا كَرَدَافَةٍ وَ بِهِ الْوَصولُ بِسُدَّةِ السُّلْطَانِ اللہ کی قسم آنحضرت شاہی دربار کے سب سے اعلیٰ افسر کی طرح ہیں