رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 159 of 169

رسالہ درود شریف — Page 159

رساله درود شریف ۲۹۸ ۲۹۹ ر ساله درود شریف حضرت خلیفۃ المسیح اول کی بعض دیگر ہدایات درباره درود شریف سوز دل سے درود شریف پڑھنے کی تاکید شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی موصوف لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ مبارک میں ایک دفعہ جب میں قادیان سے واپس آنے کے لئے تیار ہوا۔تو میں نے حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے کوئی وظیفہ بتایا جائے آپ نے فرمایا کہ حضرت صاحب اکثر درود شریف اور استغفار کثرت سے پڑھنے کا ہی ارشاد فرمایا کرتے ہیں۔ہم اس سے زیادہ اور کیا بتا سکتے ہیں پس درود شریف کا جس قدر ممکن ہو ورد رکھو۔اور چلتے پھرتے استغفار پڑھا کرو۔چنانچہ حسب توفیق میں اس پر کار بند رہا۔اس کے بعد جب میں پھر قادیان آیا۔اور چند روز رہ کر واپسی کے وقت حضرت ممدوح کی خدمت میں حاضر ہوا۔تو میں نے عرض کیا کہ میں حسب الارشاد درود شریف پڑھتا رہا ہوں مگر کوئی خاص تاثیر یا برکت کے آثار نمایاں نہیں ہوئے۔فرمایا درود شریف ایک دعا ہے اور تم کو اپنی بعض پیش آمدہ مشکلات کے لئے بھی دعائیں کرنے کا موقع ملتا ہو گا پس جس رجوع درد اور تڑپ کے ساتھ تم اپنے مطالب کے لئے دعائیں کرتے ہو۔کیا وہ تڑپ کبھی درود شریف میں بھی پیدا ہوئی ہے یا نہیں۔اگر نہیں ہوئی تو پھر عدم ظهور تاثیر کی شکایت درست نہیں۔آپ درد دل کے ساتھ آنحضرت لم پر درود بھیجا کریں۔تو انشاء اللہ تعالی ضرور نمایاں طور پر آثار برکت مشہور ہوں گے۔درود شریف کے لئے وقت کس طرح نکالا جا سکتا ہے شیخ صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مسجد مبارک میں مع خدام کھانا کھا رہے تھے اور میں دستر خوان پر حضرت خلیفہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا۔حضرت مولوی صاحب مروح نے آہستہ سے مجھ سے پوچھا کہ نماز مغرب کے بعد کتنا وقت گزرا ہو گا میں نے کہا قریباً ایک گھنٹہ آپ نے فرمایا کہ جب ہم کسی شخص کو درود شریف یا استغفار کے لئے کہتے ہیں تو اکثر لوگ عدیم الفرصتی اور وقت کی کمی کا عذر کر دیتے ہیں مگر یہ عذر درست نہیں۔دیکھو ہم حضرت صاحب کی باتیں بھی توجہ سے سنتے رہے ہیں۔اور اس ایک گھنٹہ کے قریب وقت میں ہم نے پانچ سو مرتبہ درود شریف بھی پڑھا ہے۔شیخ صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے اس زریں اصول کی پابندی سے بفضلہ تعالیٰ بہت فائدہ اٹھایا ہے۔اور اگر غفلت یا شامت اعمال حائل نہ وہ تو اس طرح سے انسان تفصیح اوقات سے بہت حد تک بچ سکتا ہے۔وباللہ التوفیق طریق دعا اور اس میں درود شریف حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری دور درس قرآن کریم میں سورہ فاتحہ کے درس میں فرمایا کہ سورۃ الحمد میں اللہ تعالیٰ نے دعا کرنے کا طریق سکھایا ہے۔”جب انسان کو کوئی امر پیش آئے تو چاہئے کہ تازہ وضو کرے اور دو رکعت نماز پڑھے۔استغفار کرے۔اللہ تعالیٰ۔