رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 154 of 169

رسالہ درود شریف — Page 154

رساله درود شریف قدر ترقی ہو رہی ہے۔جو آپ کی زندگی کو بڑھا رہی ہے۔خود جب خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ مین کے مدارج کی ترقی ہو۔ملائکہ کہتے ہیں ترقی ہو۔اور پھر مومن کو حکم ہوتا ہے کہ تم بھی درود پڑھو۔کوئی وقت ایسا نہیں گزرتا جب آپ پر درود نہ پڑھا جاتا ہو۔کیونکہ علاوہ ان درود پڑھنے والوں کے جو مومنوں کا گروہ ہے۔اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ تو ہر وقت اس کام میں مشغول رہتے ہیں۔کیونکہ ان میں کسل نہیں ہوتا۔اور جس کثرت سے درود شریف پڑھا جاتا ہے اس سے اندازہ کرو۔کہ آپ کے درجات میں ہر آن کس قدر ترقی ہو رہی ہے۔- ایک بار میں نے خود حضرت امام علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا آپ فرماتے تھے کہ درود شریف کے طفیل اور اس کی کثرت سے یہ درجے خدا نے مجھے عطا کئے ہیں۔اور فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض عجیب نوری شکل میں آنحضرت امی کی طرف جاتے ہیں۔اور پھر وہاں جاکر آنحضرت م کیو ایم کے سینہ میں جذب ہو جاتے ہیں اور وہاں سے نکل کر ان کی لاانتہا نالیاں ہو جاتی ہیں اور بقدر حصہ رسدی ہر حقدار کو پہنچتی ہیں۔یقینا کوئی فیض بدون وساطت آنحضرت میل کے دوسروں تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔اور فرمایا درود شریف کیا ہے۔رسول اللہ مال کے اس عرش کو حرکت دیا ہے۔جس سے یہ نور کی نالیاں نکلتی ہیں۔جو اللہ تعالی کا فیض اور فضل حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کو لازم ہے کہ وہ کثرت سے درود شریف پڑھے۔تاکہ اس فیض میں حرکت پیدا ہو۔غرض اللہ تعالیٰ کو آنحضرت مال کی بڑی عظمت اور عزت منظور ہے کیونکہ خدا کی جو عزت اور توحید آپ نے قائم کی ہے کسی اور کے ذریعہ سے ٢٨٩ رساله درود شریف نہیں ہوئی۔اور اس وقت بھی اس کے بروز احمد نے (خدا کی نصرتیں اور تائیدیں اس کے ساتھ ہوں) اسی توحید کو قائم کرنے کے لئے غیرت اور جوش پایا ہے۔اب میرا یہ منشا ہے کہ ایسی حالت میں مسلمانوں کو کس قدر درود شریف کے پڑھنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ جس رسول کا یہ درجہ ہے کہ اللہ اور اس کے ملائکہ اس پر درود بھیجتے ہیں، ناخدا ترس مردہ پرست قوم نے اس کی بہت ہتک کی ہے۔اس سید المعصومین کی نسبت بہت سے نخش ہمیں ان سے سننے پڑے ہیں۔لا انتہا کتابیں اس شرک عظیم کے حامیوں کی طرف سے شائع کی گئی ہیں۔اور جو مسلمان باقی رہ گئے ہیں انہوں نے بھی اپنے عملی رنگ سے ہتک کی جب کہ آپ کی اتباع سنت کو چھوڑ دیا۔جو دین آپ لائے تھے۔اور جو تعلیم قرآن نے دی تھی۔اس کو چھوڑ دیا گیا۔گویا دونوں طرح پر آنحضرت میں دل کی ہتک کی گئی ہے، اس بے عزتی اور ہتک کا انتقام لینے اور اس عزت کو قائم کرنے کے لئے پھر خدا نے اسی کو بھیجا ہے تاکہ پھر زمین پر ایک خدا کی پرستش ہو۔اور وہ حمد الہی سے بھر جاوے۔اور رسول اللہ علی ال محمد و احمد ثابت ہو "۔الحکم جلد نمبر ۸ پرچه ۲۸ فروری ۱۹۰۳ء)