رسالہ درود شریف — Page 152
رساله درود شریف ۲۸۵ رساله درود شریفه دعاؤں میں خاص لطف اور مزا آئے گا۔کیونکہ اب پڑھنے والے کے لئے اس کے الفاظ کوئی چیستان اور معمے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ تک پہنچانے کے لئے کھلا ہوا راستہ ہے، غور و فکر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ورنہ خدا اور رسول کی طرف سے جتنی باتیں سکھائی گئی ہیں ان میں بڑی بڑی انسان اپنی نادانی سے انہیں قابل اعتراض سمجھتا ہے۔مگر وہ بڑی بڑی برکتیں اپنے اندر رکھتی ہیں"۔(الفضل ۱۳ جنوری ۱۹۲۸) اہیں نوٹ۔ایک دوست نے 9 ستمبر ۳۴ء کو سید نا وامامنا حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایده اللہ تعالی کی خدمت میں عرض کیا۔کہ ملیریل اثر کے علاج اور اس سے بچنے کی تدابیر میڈیکل لحاظ سے قوت ارادی کے لحاظ سے اور روحانی اثرات کے ماتحت کیا ہیں۔فرمایا :- ہے۔(۱) غذا کی احتیاط۔کونین کا استعمال (۲) آپ کی کوشش ہی آپ کا فرض ہے (۳) دعا ، درود تسبیح و تحمید " پس درود شریف جسمانی امراض اور ان کے بداثرات کا بھی ایک علاج درود شریف پر حضرت مسیح موعود کی موجودگی میں حضرت مولانا عبد الکریم صاحب کا خطبہ جمعہ اِنَّ اللهَ وَمَليكتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَايُّهَا الَّذِيْنَ امَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلّموا تسلیما ن اللہ تعالیٰ اور اس کے تَسْلِيمًا فرشتے اس نبی پر درود بھیجتے ہیں۔اے ایمان والو تم بھی اس پر درود اور سلام ہ بھیجا کرو۔ہمارے نبی کریم ملا مال او لیول کو اللہ تعالٰی نے بہت سی بزرگیاں اور خصوصیتیں عطا فرمائی ہیں۔جن پر نظر کرنے سے یقیناً معلوم ہوتا ہے کہ اللہ جل شانہ نے اپنی مخلوقات میں سے جیسا اس عظیم الشان پاک انسان کو بنایا ہے کسی کے لئے ارادہ نہیں کیا کہ اس کی وہ عزت اور تکریم ہو جو آپ کی ہوئی ہے۔آنحضرت مہ کے فضائل اور وجوہ اعزاز اس قدر ہیں کہ میں یقینا کہتا ہوں کہ کوئی دعوئی نہیں کر سکتا۔کہ پورے طور پر ان کو گن سکے۔صلی مالی روم منجملہ اور باتوں کے یہ کس قدر عظیم الشان بات ہے کہ آپ کا نام محمد واحمد رکھا گیا۔جس قدر نام انبیاء کے قرآن میں ہیں یا تو رات میں مذکور ہوئے ہیں مع ان کے جن کو لَمْ نَقصض کے نیچے رکھا ہے، کسی نام کے ساتھ یہ نہیں پایا جاتا کہ ایسی ابدی زندگی عطا کی گئی ہو۔تمام نبی جو آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت میل تک ہوئے۔اس دنیا سے الگ ہو گئے۔دنیا کی کوئی کتاب اور نہ ان کی امتیں اور قومیں۔غرض کوئی بھی ان کا نشان نہیں دے سکتا۔اور ان کی زندگی کا پتہ نہیں دیتا۔یہ قرآن کریم اور آنحضرت مللی کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے سب کو خدا کے راستباز اور برگزیدہ نبی تسلیم کر لیا۔اور اسی کے طفیل سے وہ زندہ ہو گئے۔اگر قرآن شریف نہ آیا ہوتا تو یقیناً مشکل کیا، ناممکن ہو تا ان کی نبوتوں کا ثابت کرنا۔باوجود اس کے کہ قرآن شریف اور نبی کریم میم نے ان کو ایک زندگی بخشی ہے اور یہ عظیم الشان احیاء موتی ہے آنحضرت میں کا۔جس نے ہزاروں سال کے مردوں کو زندہ کر دیا ہے) یہ بھی صحیح مسلم بات ہے کہ