رسالہ درود شریف — Page 150
رساله درود شریف ۲۸۰ کریم ملی علیم کیلئے نہیں کر رہے ہوتے۔بلکہ اپنے لئے دعا کر رہے ہوتے ہیں۔کیونکہ اس میں رسول کریم امام اہل علم کی امت کی ترقی کی دعا ہے۔اور اتنی جامع دعا ہے۔کہ اس سے بڑھ کر خیال میں بھی نہیں آسکتی۔اس میں یہ سکھایا گیا ہے کہ وہ رحمتیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ سے نازل ہو ئیں۔ان سے بڑھ کر رسول کریم میں اہلیہ کے ذریعہ سے نازل کی جائیں۔یعنی جس طرح ان کو مانگنے سے بڑھ کر دیا گیا۔اسی طرح رسول کریم می ایم نے جو کچھ مانگا اس سے بڑھ کر آپ کو دیا جائے۔آنحضرت کی دعا کی وسعت چونکہ وسعت فیض کے لحاظ سے رسول کریم میل کی دعائیں بڑھی ہوئی تھیں۔اس لئے ان سے بڑھ کر دینے کا یہ مطلب ہوا۔کہ آپ کی شان سب سے بڑھی ہوئی تھی۔دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواہش کی کہ ایک بچہ ملے جو نسل چلائے۔مگر خدا تعالیٰ نے اس کے مقابلہ میں فرمایا میں تیری نسل کو اتنا بڑھاؤں گا کہ جس طرح آسمان کے ستارے گنے نہیں جاتے۔اسی طرح وہ بھی گئی نہ جائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔رسول کریم نے ایک بچہ نہ مانگا۔بلکہ یہ فرمایا انتى مُكَاثِرُ تِكُمُ الْأُمَم کہ میں اپنی امت کی کثرت پر فخر کرونگا۔اس وجہ سے خدا تعالیٰ نے آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی زیادہ امت دی۔پس درود کی دعا کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم کی دعائیں ان کی امت کے متعلق اس سے بڑھ کر قبول ہو ئیں جس قدر کہ کی گئی تھیں۔اسی طرح امت محمدیہ کو کیفیت اور کمیت کے لحاظ سے ان دعاؤں سے بڑھ کر دیا جائے جو رسول کریم نے کی ہیں۔۲۸۱ رساله درود شریف امت کے حق میں دعا کو درود میں رکھنے کی حکمت اب یہ سوال ہو سکتا ہے کہ اس کے لئے درود کیوں رکھا۔مسلمان یہ دعائیں کر سکتے تھے۔کہ جو کچھ پہلی امتوں کو ملا اس سے بڑھ کر انہیں دیا جائے۔میرے نزدیک درود کے ذریعے دعا سکھانے میں بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں کو یہ دھوکا لگنے والا تھا۔کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امت کو جو کچھ ملا۔وہ محمد عالم کی ذریت کو نہیں مل سکتا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق تو خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ہم تمہاری ذریت میں نبوت رکھتے ہیں۔مگر مسلمانوں نے یہ دھوکا کھانا تھا کہ امت محمدیہ اس نعمت سے محروم کر دی گئی ہے۔اور اس طرح رسول کریم میر کی تک ہوتی تھی۔اس لئے یہ دعا سکھائی گئی کہ جو کچھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امت کو ملا اس سے بڑھ کر رسول کریم ما کی امت کو ملے۔اور اس میں نبوت بھی آگئی۔پس جب کوئی مسلمان درود کی دعا پڑھتا ہے تو گویا یہ کہتا ہے کہ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النبوة کا جو انعام حضرت ابراہیم پر ہوا تھا وہ محمد م پر بھی ہو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی چونکہ جسمانی ذریت بھی تھی۔اور رسول کریم اللہ کا کوئی جسمانی بیٹا نہ تھا۔اس لئے خیال کیا جا سکتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جو وعدہ کیا گیا وہ یہاں پورا نہ ہو گا۔اس خیال کو دور کرنے کے لئے درود کے ذریعہ سے یہ بتایا گیا۔کہ اے مسلمانو! تم ہی محمد میں کی ذریت ہو، تمہیں یہ انعام دیا جا سکتا ہے۔