رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 149 of 169

رسالہ درود شریف — Page 149

رساله درود شریف نبی۔۲۷۹ رساله ورود جب رسول کریم ما عرفان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بڑھے ہوئے تھے۔تو یقینی بات ہے کہ آپ کی دعائیں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام درود میں یہ دعا کہ جو کچھ آنحضرت نے مانگا اس سے بڑھ کر آپ کو دیا جائے کی دعاؤں سے بڑھی ہوئی ہونگی۔اب یہی بات رسول کریم کے متعلق سمجھو۔اور درود کے یہ درود میں دعا کہ جو کچھ حضرت ابراہیم کو دیا گیا اس سے بہت بڑھ معنے کرو۔کہ خدایا جو معاملہ تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیا، وہی محمد کر آنحضرت کو دیا جائے سے کرنا۔یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو مانگا اس سے بڑھ کر صلی تعالی د دوم ان کو دیا ، اسی طرح محمد رسول الله ما لم نے جو مانگا۔اس سے بڑھ کر ان کو پس درود میں جو دعا مانگی جاتی ہے اس کا صحیح مطلب یہ ہوا کہ الہی حضرت ابراہیم نے آپ سے جو مانگا انہیں آپ نے اس سے بڑھ کر دیا۔اب محمد نے جو مانگا انہیں بھی مانگنے سے بڑھ کر عطا کیجئے۔دوسرے لفظوں۔میں اسکے یہ معنی ہوئے کہ جو کچھ حضرت ابراہیم کو ملا محمد میر کو اس سے درجہ کے لحاظ سے حضرت ابراہیم کی دعا میں اور آنحضرت کی دعا میں فرق اب درجہ کے لحاظ سے فرق یہ ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے عرفان کے مطابق اللہ تعالٰی سے دعائیں کیں۔اور رسول کریم ملی نے اپنے عرفان کے مطابق۔کیونکہ جتنی جتنی معرفت ہوتی ہے اس کے مطابق مطالبہ کیا جاتا ہے۔ایک چھوٹا بچہ چیچی مانگتا ہے لیکن جب ذرا بڑا ہوتا ہے تو مٹھائی مانگنے لگتا ہے۔جب جوان ہونے پر آتا ہے تو اچھے کپڑے طلب کرتا ہے۔جوان ہو کر یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ماں باپ اس کی کسی اچھی صلی می روم بڑھ کر دیا جائے۔اور وہ چیز جس کے لئے حضرت ابراہیم سے بڑھ کر رسول کریم کو دینے کی دعا کی گئی ہے ، یہی ہے کہ حضرت ابراہیم نے امت مسلمہ مانگی۔ان کی نسل میں نبوت قائم کر دی گئی۔رسول کریم میں نے الله الر اپنی امت کے لئے ان سے بڑھ کر دعا کی۔اس لئے آپ کی امت کو ان کی امت سے بڑھ کر نعمت دی جائے۔اس نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے درود کو دیکھو تو معلوم ہو سکتا ہے کہ کتنی عظیم الشان مدارج کے حصول کے لئے اس میں دعا سکھائی گئی ہے۔درود میں دراصل اپنے لئے ہی دعا کی جاتی ہے جگہ شادی کریں۔پھر یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اسے جائداد کا حصہ دے دیا جائے۔غرض جوں جوں عرفان بڑھتا ہے، مطالبہ بھی بڑھتا جاتا ہے اسی طرح جتنا کسی کا خدا تعالیٰ کے متعلق عرفان ہوتا ہے اسی کے مطابق وہ دعا کرتا ہے۔الله اور جب ہم درود پڑھتے ہیں تو رسول کریم ملی و پر احسان نہیں کر رہے ہوتے۔بلکہ اپنے لئے دعا کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ اس میں رسول