رسالہ درود شریف — Page 141
رساله درود ر ساله درود شریف خواں کے واسطے بھی ادھر سے رحمت کا نزول ہوتا ہے۔اور ایک درود کے ٹھہرے۔اور ہم جناب الہی سے اپنے محسن کے لئے درد دل سے خاص بدلہ میں دس گنا اجر اسے دیا جاتا ہے کیونکہ آنحضرت میم کی روح اس رحمتوں کا نزول طلب کریں گے تو خدا تعالیٰ ہماری عرضداشت پر جناب نبی درود خواں اور آپ کی ترقی مدارج کے خواہاں سے خوش ہوتی ہے اور اس کریم میں یا علی ملک کے لئے خاص رحمتوں کا بھیجنا منظور فرمائے گا اور چونکہ اس دعا خوشی کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ اس کو دس گنا اجر عطا کیا جاتا ہے۔انبیاء کسی کا کے لئے اس نے خود ہمیں حکم دیا ہے۔اس واسطے یقیناً صلوٰۃ اور سلام کی دعا قبول ہو گی اور اس ذریعہ سے جب ہمارے نبی کریم میر کو خاص انعامات احسان اپنے ذمہ نہیں رکھتے“۔(الحکم ۱۶ اپریل ۱۹۰۸ء) الله البر حاصل ہوں گے۔تو وہ خوش ہو کر ملاء اعلی میں ہمارے لئے توجہ کریں گے۔درود میں آنحضرت جیسے عظیم الشان انسان کے لئے کیا مانگا سوال جاسکتا ہے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ اس کے بعد درود شریف پڑھ کر محمد رسول اللہ میں کے لئے کیا مانگا جا سکتا ہے؟ جواب یاد رکھو ایک خدا کا فضل ہوتا ہے اور ایک تکمیل دین ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل محدود نہیں ہوتے کیونکہ اللہ تعالیٰ خود محدود نہیں۔پس ایسا ہی اس کے فضل بھی محدود نہیں۔اس کے گھر کا دوالہ کبھی نہیں نکلتا۔وہ جو کچھ کسی کو عنایت کرتا ہے اس سے بھی بدرجہا بڑھ کر دے سکتا ہے۔اسی مسلمانوں نے بہشت اور بہشت کی نعماء کو ابدی اور لا انقطاع ابدی مانا ہے۔جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے عَطَاء غَيْرَ مُجْدُون اور پھر فرمایا۔لا مَقْطُوعَةٍ وَلاَ مَمْنُوعَةٍ - غرض جب کہ خدا کے فضل بے انت پس درود شریف کے پڑھنے سے مومن کو چار فائدے حاصل ہو سکتے ہیں۔۔(۱) خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔کیونکہ وہ ایک ایسی بلند شان والی قادر اور توانا ہستی ہے کہ سب کے سب انبیاء رسول اور دیگر اولوا العزم ہر وقت اس کے محتاج ہیں۔(۲) خدا تعالیٰ کا کمال غنا ظا ہر ہو گا۔کہ سارا جہان اس سے سوال کرتا ہے مگر اس کے خزانے ختم نہیں ہو سکتے۔اور جتنا دیتا ہے اس سے بھی بدرجہا بڑھ کر دینے کے لئے اس کے پاس موجود ہے۔(۳) اپنے نبی کریم میں کی نسبت یہ اعتقاد پختہ ہو جائے گا۔کہ وہ خدا کا محتاج ہے اور ہر آن میں محتاج ہے۔خدائی کے مرتبہ پر نہیں پہنچا۔اور نہ پہنچے گا۔بلکہ عبد کا عبد ہی ہے۔اور عبد ہی رہے گا۔خدا تعالی کا فیضان ان پر ہمیشہ ہو تا رہتا ہے اور ہو تا رہے گا۔(۴) درود شریف کے پڑھنے والا اس ذریعہ سے آنحضرت میم کے ساتھ اس ترقی میں شریک رہے گا۔" اخبار الحکام جلد ۱۳ نمبر ۴ پر چه ۱۴ جنوری ۱۹۰۸ء)