رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 140 of 169

رسالہ درود شریف — Page 140

رساله درود شریف طیبات ۲۶۰ پھر یہ اثر اسی جگہ محدود نہیں رہتا۔بلکہ انسان کے مال پر بھی پڑتا ہے۔اور اس طرح سے انسان اپنے عزیز وطیب مالوں کو خدا کی رضا جوئی اور خوشنودی کے واسطے بے دریغ خرچ کرتا ہے۔اور اپنے مال کو بھی اپنے دل و دماغ ، زبان اور ظاہری اعضاء کے ساتھ شامل و متفق کر کے عبادت الہی میں لگا دیتا ہے۔تو اس کا نام ہے الطیبات جس کو بالفاظ دیگر یوں بیان کیا گیا ہے مالی عبادت۔اور یہ بھی صرف اللہ جل شانہ کا حق ہے۔غرض التميمات الصلوات الطیبات تینوں طرح کی عبادات فقط اللہ جل ۲۶۱ رساله درود شریف آنحضرت ما پر ورود درد دل کے ساتھ بھیجنا چاہئے اگر ہم اللہ تعالیٰ کے پورے بندے اور عابد اور تعظیم کرنے والے ہیں۔اور مخلوق پر شفقت اور رحم کرنیوالے۔اور علوم اور عقائد سے خوشحال ہیں۔تو یہ سب فیضان اور احسان حقیقت میں نبی کریم مل ہی کا ہے۔آپ کے دل کے درد اور جوش نہ ہوتے۔تو قرآن کریم جیسی پاک کتاب کا نزول کیسے ہوتا۔آپ کی مہربانیاں اور توجہات اور محنتیں اور تکالیف شاقہ نہ ہوتیں۔تو یہ پاک دین ہم تک کیسے پہنچ سکتا۔آپ نے یہ دین ہم نتک پہنچانے کی غرض سے خون کی ندیاں بہا دیں۔اور ہمدردی خلق کے لئے اپنی شانہ ہی کا حق ہے۔کسی قسم کی عبادت میں اس کا کوئی شریک نہیں۔اللہ جان کو جو کھوں میں ڈالا۔تو پھر غور کا مقام ہے کہ جب ادنی اونی محسنوں سے تعالیٰ اس بات سے غنی ہے کہ کوئی اس کا شریک اور ساجھی ہو۔" الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۵ مورخه ۱۶ اپریل ۱۹۰۸ء) آنحضرت کا دنیا کو سلامتی بخشنا آپ پر سلام بھیجنے کا متقاضی ہے ” جب اس بات کا خیال کیا جاتا ہے کہ دنیا میں خصوصاً عرب میں نبی کریم کے طفیل کس قدر سلامتیاں پھیلیں۔تو بے اختیار ان کے لئے سلامتی کی دعا کرنے کو ابال اٹھتا ہے۔اور منہ سے نکلتا ہے۔السّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه - التی تو میرے پیارے نبی کی عزت و درجہ کو ترقی دے۔اپنی خاص رحمتوں کا نزول فرمائیو۔اپنی برکات نازل لیجیئو" (بدر جلد ۹ نمبر ۴۳ صفحه ۳) ہمیں محبت پیدا ہو جانا ہماری فطرت سلیمہ کا تقاضا ہے۔تو پھر آنحضرت مریم کی محبت کا جوش کیوں مسلمان کے دل میں موجزن نہ ہو گا۔درود بھی درد سے ہی نکلا ہوا ہے۔یعنی خاص درد سوز گداز اور رفت سے خدا کے حضور التجا کرنی۔کہ اے مولیٰ تو ہی ہماری طرف سے خاص خاص انعامات اور مدارج آنحضرت ام الله و سلم کو عطا کر۔ہم کرہی کیا سکتے ہیں۔ملی کلیه دروم اور کس طرح سے آپ کے احسانات کا بدلہ دے سکتے ہیں۔بجز اس کے کہ تیرے ہی حضور میں التجا کریں۔کہ تو ہی آپ کو ان بچی محنتوں اور جانفشانیوں کا سچا بدلہ جو تو نے آپ کے واسطے مقرر فرما رکھا ہے۔وہ آپ کو عطا فرما۔انسان جب اس خاص رفت اور حضور قلب اور تڑپ سے گداز ہو کر آپ کے واسطے دعائیں کرتا ہے تو آنحضرت امی کے مدارج میں ترقی ہوتی ہے۔اور خاص رحمت کا نزول ہوتا ہے۔اور پھر اس دعا گو درود