رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 139 of 169

رسالہ درود شریف — Page 139

ر ساله درود شریف ۲۵۸ بعض کلمات تشہد کی تفسیر ۲۵۹ رساله درود شریف ہے۔اس لئے حکم ہے۔وَأَمَّا بِنِعْمَتِ رَبِّكَ فَحَدِث تحدیث نعمت کرنا اور خدا تعالیٰ کے انعامات کا شکر ادا کرنا ازدیاد انعامات کا باعث ہوتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَئِن شَكَرْتُمْ لَا زِيْدَنَّكُمْ ہی اس " تحیہ عربی میں کسی کی تعریف مدح ستائش۔بڑائی اور اس کی طرح سے تحدیث نعماء اور عطایا الہی اور شکر کا اظہار زبان سے کرنے کا نام ہے تحیہ۔صلوة مہربانیوں اور انعامات کے بیان کرنے اور اس کی شکر گزاری کے واسطے اس کے حسن اور احسان کو یاد کر کے اس کے گرویدہ ہونے کے بیان کرنے کو کہتے ہیں۔اور بعض نے قولی عبادت بھی اس کا ترجمہ کیا ہے۔عبادت فرمانبرداری اور تعظیم کا نام ہے۔اس واسطے زبان سے جو کچھ عبادت اور صلوۃ اس تعظیم اور عبادت کا نام ہے جو زبان دل اور اعضاء کے اتفاق فرمانبرداری کا اظہار کیا جاتا ہے اس کا نام تحیہ ہے۔چونکہ کل انعامات اور سے ادا کی جائے۔کیونکہ ایک محتافق کی نماز جو کہ ریاء اور دکھلاوے کی غرض فیوض کا سچا اور حقیقی سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔اور بجز اس کے خاص فضل سے ادا کی گئی ہو نماز نہیں ہے۔نماز بھی ایک تعظیم ہے۔جس کا تعلق بدن کے ہم دنیا و مافیہا کے کل سامان آرام و اسائش سے متمتع نہیں ہو سکتے۔اس سے ہے۔بدن کا بڑا حصہ دل اور دماغ ہیں۔چونکہ زبان نماز کے الفاظ ادا لئے صرف اور صرف اسی کی حمد وستائش کے گیت گانے کو اور اس کی کرنے میں اور دل و دماغ اس کے مطالب و معانی میں غور کر کے توجہ الی اللہ فرمانبرداری کو سب پر مقدم کرنا چاہئے۔دیکھو اگر کوئی محسن ہمیں ایک اعلیٰ کرنے میں۔اور ظاہری اعضاء ہاتھ پاؤں وغیرہ ظاہری حرکات تعظیم کے ادا درجہ کی عمدہ اور نفیس گرم پوشاک دے مگر اللہ کا فضل شامل حال نہ ہو۔کرنے میں شریک ہوتے ہیں۔اور ان سب کے مجموعہ کا نام بدن یا جسم اور ہمیں سخت محرقہ تپ ہو۔تو وہ لباس ہمارے کس کام آسکتا ہے۔اور اگر ہے۔اس لئے بدنی عبادت کا نام صلوۃ ٹھہرا۔دل و دماغ خدا کی بزرگی اور ہمارے سامنے اعلی سے اعلی مرغن کھانے قسم قسم کے رکھے جائیں۔مگر ہم کو حق سبحانہ کی عظمت کا جوش پیدا کرتے ہیں، بذریعہ اس کے انعامات اور حسن قے کا مرض لاحق ہو۔تو ہم ان کھانوں کی لذت کیسے اٹھا سکتے ہیں۔و احسان میں غور کرنے کے۔اور پھر اس جوش کا اثر زبان پر یوں ظاہر ہوتا غرض غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آسائش و آرام کے کل سامانوں ہے کہ زبان کلمات تعریف اور ستائش کہنے شروع کر دیتی ہے۔اور پھر اس کا کے مادے پیدا کرنا بھی جس طرح اللہ ہی کا کام ہے۔اسی طرح سے ان سے اثر اعضاء اور ظاہری جوارح پر پڑتا ہے۔اور ادب و تعظیم کے لئے کمربستہ متمتع اور بارور ہونا بھی محض اللہ کے فضل پر موقوف ہے۔صحت عطا کرنا ہونا، رکوع کرنا، سجود کرنا وغیرہ ظاہری حرکات تعظیم بجالاتے ہیں۔قوت ذائقہ بخشا، قوت ہاضمہ کا بحال رکھنا سب اللہ تعالی کے فضل پر موقوف