رسالہ درود شریف — Page 128
رساله درود شریف ۲۳۶ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ نوٹ۔اس درود شریف کے پہلے حصہ میں صرف عَلى إِبْرَاهِيمَ ہے اور اس دوسرے حصہ میں صرف على آلِ إِبْرَاهِيمَ ہے۔اور ایک روایت میں اس کے بر عکس پہلے حصہ میں عَلَى آلِ إِبْرَاهِم ہے۔اور دوسرے میں علی ابراهیم اور اس دوسری روایت کے پہلے حصہ کے آخر میں اِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِیدُ نہیں آتا۔اور دوسرا حصہ وَ بَارِک سے شروع ہوتا ہے۔اور ایک روایت میں دونوں حصوں میں عَلَى إِبْرَاهِيمُ ۲۳۷ رساله درود شریف اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ على ألِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِك عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا بارَكْتَ عَلَى الِ إِبْرَاهِيمَ فِى الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ وَالسَّلام كَمَا عَلِمْتُمْ (صحیح مسلم و جامع ترندی) (ترجمہ) حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ (یعنی بعض صحابہ ایک دفعہ حضرت سعد بن عبادہ کی مجلس میں بیٹھے تھے اتنے میں آنحضرت میں تشریف لائے۔اس پر حضرت سعد" کے لڑکے بشیر نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے آپ پر درود بھیجنے کا پر ہے اور باقی تمام درود مطابق درود شریف اول ہے۔اور اسی کے مطابق جو حکم دیا ہے۔اس کے ماتحت ہم آپ پر درود کس طرح بھیجا کریں۔یہ جامع ترمذی میں بھی ایک روایت ہے مگر اس میں اللهُمَّ بَارِک کی بجائے سوال سن کر حضور خاموش ہو گئے۔جس سے ہمیں یہ خیال ہوا کہ شاید آپ وبار کی ہے اور سنن ابی داؤد کی ایک روایت میں اس درود کے دونوں نے اس سوال کو ناپسند فرمایا ہے۔اور ہم دل میں کہنے لگے کہ کاش وہ سوال حصوں میں وَ عَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کی بجائے وَ الِ مُحَمَّدٍ ہے نیز دونوں نہ کرتا۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا یوں جگہ صرف عَلَى إِبْرَاهِيمَ ہے۔اور پہلے حصہ کے آخر میں انگ کہا کرو:- حَمِيدٌ مَجِيدٌ نہیں ہے۔اور دوسرا حصہ وَبَارِک سے شروع ہوتا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ ہے۔عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا (٥٣) عَنْ أَبِي مَسْعُودِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ بَارَكْتَ عَلَى الِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔آتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ أَمَرَنَا اللَّهُ أَنْ نُصَلَّى عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَتَّهِنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْئَلُهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُولُوا اور سلام کا طریق وہی ہے جو تمہیں معلوم ہو چکا ہے۔نوٹ: اس حدیث سے پایا جاتا ہے کہ درود شریف کے الفاظ بھی الہامی ہیں۔اس درود میں عَلى إِبْرَاهِيمَ کا لفظ نہیں ہے۔اور فی الْعَالَمِینَ کا لفظ زیادہ ہے۔اور اس سے مراد اقوام عالم بھی ہو سکتی ہیں۔اور حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے آنحضرت امام کا تمام اقوام عالم