رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 127 of 169

رسالہ درود شریف — Page 127

رساله درود شریف ہیں۔جو اس رسالہ کے صفحہ ۱۸۹ پر درج ہو چکے ہیں۔نوٹ ۲۔سنن نسائی میں بھی یہ الفاظ درود شریف بروایت حضرت کعب ۲۳۵ رساله درود شریف مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ نوٹ:۔اس روایت میں درود شریف کے دونوں حصوں میں علی بن عجرہ رضی اللہ عنہ آتے ہیں۔لیکن ان میں اللهُم بَارِک کی بجائے إبْرَاهِيمَ نہیں ہے بلکہ صرف على آلِ إِبْرَاهِيمَ ہے۔اور صحیح مسلم کی وَبَارِک آتا ہے اور تغییر در منشور میں بھی بحوالہ سعید بن منصور، عبد بن حمید ابن ابی حاتم وابن مردویہ مذکور ہیں۔اور ان میں اللهُمَّ بَارِک کی بجائے وَبَارِک اور درود کے دوسرے حصہ میں وَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ کی بجائے وَ آلِ إِبْرَاهِيمَ ہے۔اور سنن نسائی کی ایک روایت میں اللهُمَّ بَارِک کی بجاۓ وَبَارِک کے علاوہ دونوں جگہ عَلیٰ آلِ إبْرَاهِيمَ کی بجائے وَ الِ إِبْرَاهِيمَ ہے۔(۵۲) عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قِيْلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ امَّا السَّلَامُ عَلَيْكَ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ فَكَيْفَ الصَّلوةُ قَالَ قُولُوا اَللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى أَلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَالِ حَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ ( صحیح بخاری کتاب التفسير و كتاب الدعوات) (ترجمہ) حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ صحابہ کی طرف سے حضور کی خدمت میں یہ سوال پیش ہوا کہ حضور پر سلام بھیجنے کا طریق تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے۔درود کس طرح بھیجا جائے۔تو حضور نے فرمایا۔یوں کہا کرو۔اللهمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى الِ إبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَالِ ایک روایت میں اس کے علاوہ اللهُمَّ بَارِک کی بجاۓ وَبَارِک ہے۔اور سنن نسائی کی ایک روایت میں بجائے اس فرق کے یہ فرق ہے کہ دوسرے حصہ درود میں وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدِر کی بجاۓ وَ الِ مُحَمَّدٍ آیا ہے۔اور صحیح بخاری کی ایک روایت میں اس درود کے دونوں حصوں میں وَآلِ مُحَمَّد ہے۔(۵۳) عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قُلْنَا أَوْ قَالُوا) يَا رَسُولَ اللهِ اَمَرْتَنَا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ وَانْ نُسَلَّمَ عَلَيْكَ فَامَّا السَّلَامُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ قُولُوا اَللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدُ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدُ مجيد (سنن ابی داؤد) (ترجمہ) حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ صحابہ نے عرض کیا۔یا رسول اللہ آپ نے ہمیں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم آپ پر درود بھی بھیجیں اور سلام بھی۔سو سلام بھیجنے کا طریق تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے۔درود آپ پر کس طرح بھیجا جائے۔فرمایا یوں کہا کرو۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدُ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ