رسالہ درود شریف — Page 105
رساله درود شریف 19۔اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ على ألِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اے اللہ محمد پر اور محمد کی تمام آل پر برکتیں نازل کر جس طرح تو نے (پہلے بھی) ابراہیم کی آل پر برکات نازل کیں۔تو بہت ہی حمد والا اور بزرگی والا ہے۔نوٹا۔اس حدیث میں اجتہاد یعنی اپنی طاقت اور سمجھ کے مطابق پوری 191 رساله درود شریف دعا میں اللہ تعالیٰ کے گزشتہ اسی قسم کے انعامات اور اس کے فضلوں کا ذکر کرنا جس قسم کا اس کا فضل اور انعام اس دعا میں مانگنا مقصود ہو۔اسے قبولیت کے زیادہ قریب اور زیادہ زور دار بنا دیتا ہے۔علاوہ اس کے کما صَلَّيْتَ اور كَمَا بَارَكْتَ کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ جیسا کہ تو اس بات کا وعدہ کر چکا اور اسے اپنے ذمہ لے چکا ہے۔اور اس کی مثالیں عربی زبان میں اور خود قرآن کریم میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔چنانچہ ایک جگہ پر کوشش اور توجہ کے ساتھ آپ پر درود بھیجنے کا حکم دے کر اس کا طریق یہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا اتَوُا یعنی جو کچھ اپنی نیت اور بتایا گیا ہے کہ (۱) نہ صرف لفظ صلوۃ کے ساتھ بلکہ اس لفظ کے معنوں کی وسعت کو مد نظر رکھتے ہوئے تفصیلی طور پر بھی اس کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے والے الفاظ مثلاً برکت یا سلام کے لفظ سے بھی آپ کے لئے دعائیں کی جائیں (۲) ان دعاؤں میں آل نبوی کو تصریح کے ساتھ شامل کیا ارادہ میں دے چکے ہوتے ہیں اس کے متعلق اپنے ارادہ کو عملی رنگ میں پورا کرتے رہتے ہیں۔اور ایک جگہ پر فرماتا ہے إِذَا سَلَّمْتُمُ مَا أَتَيْتُم یعنی جو کچھ تم نے دینا ٹھرایا ہو جب وہ دے دو اور یہ ظاہر ہے۔کہ جس بات کا وعدہ ہو چکا ہو۔اس کا دیا جانا زیادہ یقینی ہوتا ہے۔اور چونکہ حضرت ابراہیم جائے (۳) ان رحمتوں اور برکتوں کا ذکر بھی کیا جائے جو حضرت ابراہیم اور علیہ السلام نے بھی زیادہ تر برکات اپنی اولاد کے لئے ہی مانگی تھیں۔اور خدا آپ کی آل پر ہوئیں۔( آل ابراہیم میں خود حضرت ابراہیم بھی عربی زبان کے محاورہ کے مطابق آجاتے ہیں) (۴) اللہ تعالیٰ کی صفات حمید اور مجید کو بھی بیان کیا جائے۔نوٹ ۲۔صلوۃ کے ذکر کے بعد برکات کے صریح ذکر سے اس دعا کے مضمون میں جو زور پیدا ہوتا ہے وہ تو ظاہر ہی ہے اور اسی طرح اس بات کے باوجود کہ درود کی دعا آل پر بھی حاوی ہوتی ہے ، تصریح سے بھی اس میں آل کے ذکر کو رکھنا جو زور پیدا کرتا ہے وہ بھی محتاج بیان نہیں ہے۔اور آل ابراہیم کے ذکر سے اس دعا میں اس طرح پر مزید قوت پیدا ہوتی ہے کہ حضرت زکریا کی دعا کے الفاظ وَ لَمْ أكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا کی طرح تعالٰی نے بھی ان سے جن انعامات کے وعدے کئے تھے۔ان کا تعلق زیادہ تر ان کی اولاد سے ہی تھا۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں آنحضرت کی وہی شان ہے جو آسمانی ستاروں اور سیاروں میں سورج کی شان ہے۔اور اس لحاظ سے ان وعدوں کا سب سے زیادہ تعلق آپ کی ذات کے ساتھ اور آپ کے واسطہ سے آپ کی آل کے ساتھ ہی ہے۔اس لئے كَمَا صَلَّيْتَ اور كَمَا بَارَكْتُ کے معنے یہی ہونگے کہ جو صلوات اور برکات آپ پر اور آپ کی آل پر نازل کرنے کا تیرا وعدہ ہے۔وہ آپ پر اور آپ کی آل پر نازل کر۔اور یہ بات اس دعا کو جس قدر زور دار بنا دیتی ہے۔وہ کچھ محتاج اظہار نہیں ہے۔