رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 104 of 169

رسالہ درود شریف — Page 104

رساله درود شریف IAA ہاتھ مبارک مرفق تک شہد سے بھر گیا۔تب ایک مردہ کہ جو دروازہ سے باہر پڑا تھا۔آنحضرت کے معجزہ سے زندہ ہو کر اس عاجز کے پیچھے آکھڑا ہوا۔اور یہ عاجز آنحضرت کے سامنے کھڑا تھا۔جیسے ایک مستغیث حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔اور آنحضرت بڑے جاہ و جلال اور حاکمانہ شان سے ایک زبردست پہلوان کی طرح کرسی پر جلوس فرما رہے تھے۔پھر خلاصہ کلام یہ کہ ایک قاش آنحضرت نے مجھ کو اس غرض سے دی کہ تا میں اس شخص کو دوں کہ جو نئے سرے سے زندہ ہوا اور باقی تمام قاشیں میرے دامن میں ڈال دیں اور وہ ایک قاش میں نے اس نئے زندہ کو دے دی۔اور اس نے وہیں کھالی۔پھر جب وہ نیا زندہ اپنی قاش کھا چکا تو میں نے دیکھا کہ آنحضرت کی کرسی مبارک اپنے پہلے مکان سے بہت ہی اونچی ہو گئی۔اور جیسے آفتاب کی کرنیں چھوٹتی ہیں۔ایسا ہی آنحضرت کی پیشانی مبارک متواتر چمکنے لگی کہ جو دین اسلام کی تازگی اور ترقی کی طرف اشارت تھی۔تب اسی نور کے مشاہدہ کرتے کرتے آنکھ کھل گئی۔والحمد للہ علی ذالک" (براہین احمدیہ حصہ سوم صفحه ۲۴۹٬۲۴۸ حاشیه در حاشیہ نمبر۱) خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس حوالہ کا آخری فقرہ اس رویا کی تعبیر کر کے بتاتا ہے کہ وہ مردہ جو زندہ ہوا تھا وہ دین اسلام تھا۔اور یہ رویا اس مکاشفہ نبویہ کی بھی تغییر کرتی ہے جس کی طرف نواس بن سمعان کی اس حدیث میں اشارہ پایا جاتا ہے۔جس میں دجال کا مفصل ذکر ہے اور جس میں آتا ہے کہ ۱۸۹ رساله درود شریف دجال ایک مومن کو قتل کر کے اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے بڑے غرور سے اس کی لاش کو مخاطب کرتے ہوئے کہے گا۔کہ اب ذرا اٹھ کر تو دکھا۔جس پر وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے اٹھ کر پوری طاقت اور قوت کے ساتھ کھڑا ہو جائے گا۔اور اس کے بعد دجال ایسا کرنے پر قادر نہیں ہو گا۔اس حدیث میں جس مردہ کے زندہ کئے جانے کا ذکر ہے۔وہ دین اسلام ہی ہے۔(جیسا کہ خاکسار نے حضرت خلیفہ المسیح اول رضی اللہ عنہ سے بھی سنا تھا)۔واللہ اعلم بالصواب درود شریف کے متعلق بعض ہدایات درود شریف سرسری طور پر نہیں بلکہ ہر رنگ میں پوری کوشش اور توجہ سے پڑھنا چاہئے عَنْ زَيْدِ ابْنِ خَارِجَةً رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَنَا سَأَلْتُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ الصَّلوةُ عَلَيْكَ فَقَالَ صَلُّوا عَلَى وَاجْتَهِدُوا ثُمَّ قُولُوا اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى لِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيد (جلاء الافهام حواله سند امام احمد ) حضرت زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے آنحضرت میم کی خدمت میں عرض کیا۔کہ حضور پر درود کس طرح بھیجا جائے۔فرمایا اسی لفظ صلوۃ کے ساتھ میرے لئے دعا کیا کرو اور پوری کوشش اور توجہ سے کیا کرو اور اس میں یہ بھی کہا کرو کہ