رسالہ درود شریف — Page 86
رساله درود شریف ۱۵۲ سے آنحضرت میں کے ثناخواں بن جاؤ۔اللہ تعالیٰ تمہاری مدح وثناء کرے گا اور کرائے گا۔اس حدیث کی تصدیق قرآن کریم کی اس آیت سے ہوتی ہے۔من جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ امْثَالِهَا (انعام:(۱۶) جو شخص نیک کام کرے گا۔اسے اس کے نیک کام کے ہم رنگ دس گنا اجر ملے گا۔پس جو خیر و برکت آنحضرت امی کے لئے کوئی شخص چاہے گا۔اللہ تعالیٰ وہی خیر و برکت خود اسے بھی عطا کرے گا۔اس حدیث میں اور ایسا ہی دوسری احادیث میں دس سے مراد یہ نہیں۔کہ ہر ایک درود خواں کو اس کے درود کی تعداد کے مطابق یکساں اجر ملے گا۔بلکہ جو درود خدا تعالیٰ کی جناب میں قبولیت کے لائق ہو۔یا اللہ تعالیٰ کی ستاری اور کرم سے جس درود کو شرف قبول بخشا جائے۔اس کا کم سے کم اجر یہ ہو گا اور اس سے زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔جس قدر زیادہ محبت اور اخلاص سے اور پابندی شرائط کے ساتھ درود بھیجا جائے گا۔اسی قدر اجر زیادہ ہو گا۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنما سے (موقوفاً) مردی ہے کہ جو شخص آنحضرت ما پر بہت عمدگی کے ساتھ (ایک بار) درود بھیجے گا۔اس پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس کے بدلہ میں ستر بار درود بھیجیں گے اب کوئی چاہے تو اس میں کمی رکھے۔اور چاہے تو زیادہ کرے۔(جلاء الافہام بحوالہ مسند امام احمد ) نوٹ :۔صلوٰۃ کے معنے دعا ہی کے نہیں۔بلکہ اس کے معنے حسن ثناء اور تعظیم و تکریم کے بھی ہیں۔اس لئے درود کی دعا کو آنحضرت امام نے اللہ تعالی کی صفت حمید مجید کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔نیز درود ایک دعا ہے۔اور و ۱۵۳ رساله درود شریف دعا کی قبولیت کے لئے بموجب آیت ایشاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ نیز آیت نَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (بقره: ٢٥٠ ان تھک کوشش اور عملی مجاہدہ بھی ضروری ہے۔اس لئے آنحضرت م م پر درود بھیجنے والے شخص کو چاہئے۔کہ وہ اس کے ساتھ عملی طور پر بھی آنحضرت ام کی مدح و ثناء میں آپ کی عظمت شان کے اظہار میں اور آپ کے مقاصد کی پیروی میں کوشاں رہے۔اس حدیث میں یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ آنحضرت پر کثرت سے درود بھیجنا چاہئے۔اور درود میں آنحضرت مال کے لئے زیادہ سے زیادہ خیرات و برکات اللہ تعالیٰ سے مانگنی چاہئیں۔اور اس دعا کے دائرہ کو بہت وسیع کرنا چاہئے۔وباللہ التوفیق درود شریف عفو ذنوب و حصول حسنات اور رفع درجات کا ذریعہ ہے (۳) عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصْبَحَ رسول الله صلى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا طَيِّبَ النَّفْسِ يُرى فِي وَجْهِهِ الْبَشَرُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصْبَحْتَ الْيَوْمَ طَيِّبَ النَّفْسِ يُرَى فِى وَجْهِكَ الْبَشَرُ ۖ قَالَ أَجَلُ أَتَانِي أَتٍ مِّنْ رَّبِّي فَقَالَ مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ مِنْ اُمَّتِكَ صَلوةٌ كَتَبَ الله لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَرَفَعَ لَهُ عَشَرَ دَرَجَاتٍ وَرَدُّ عَلَيْهِ مِثْلَهَا (جلاء الافہام مولفہ حافظ ابن قیم رحمتہ اللہ علیہ بحوالہ مسند امام احمد حنبل صفحہ ۳۱)