رسالہ درود شریف — Page 78
رساله درود شریف کئے۔اور عقول کو آداب سے مزین کیا اور لوگوں کو کفر اور گمراہی اور سرکشی کی زنجیروں سے نکالا۔اور مومنوں اور مسلموں کو جو آپ کی خیرو برکات کے طالب تھے۔یقین اور جمعیت اور اطمینان کا پیالہ پلایا۔اور انہیں شر اور فساد اور خسارہ کی راہوں سے بچایا۔اور خیر اور سعادت اور نیکو کاری کی تمام راہوں کی طرف رہنمائی کی۔" (۳) فَصَلَّوْا عَلى هَذَا النَّبِيِّ الْمُحْسِنِ الَّذِي هُوَ مُظْهَرُ صِفَاتِ الرَّحْمَنِ الْمَتَانِ وَ هَلَ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانِ وَ الْقَلْبُ الَّذِي لَا يَدْرِى إِحْسَانَهُ فَلَا إِيْمَانَ لَهُ - أَوْ يُضِيعُ إِيْمَانَة - اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى هَذَا الرَّسُولِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي سَقَى الْآخَرِيْنَ كَمَا سَقَى الْأَوَّلِينَ - وَصَبَغَهُمْ بِصِبْعَ نَفْسِهِ وَادْخَلَهُمْ فِي الْمُطَهَّرِينَ" انجاز المسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۴۵) ” (اے لوگو) اس محسن نبی پر درود بھیجو۔جو خداوند رحمان ومنان کی صفات کا مظہر ہے۔کیونکہ احسان کا بدلہ احسان ہی ہے۔اور جس دل میں آپ کے احسانات کا احساس نہیں۔اس میں یا تو ایمان ہے ہی نہیں اور یا پھر وہ اپنے ایمان کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔اے اللہ اس امی رسول اور نبی پر درود بھیج جس نے آخرین کو بھی پانی سے سیر کیا ہے جس طرح اس نے اولین کو سیر کیا۔اور انہیں اپنے رنگ میں رنگین کیا تھا۔اور انہیں پاک لوگوں میں داخل کیا تھا" (۳) ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ مال کا ہی صدق و صفا دیکھئے۔آپ نے ہر ایک قسم کی بد تحریک کا مقابلہ کیا۔طرح طرح کے مصائب رساله درود شریف اور تکالیف اٹھائیں۔لیکن پروانہ کی یہی صدق وصفا تھا جس کے باعث اللہ تعالٰی نے فضل کیا۔اسی لئے تو فرمایا :- إِنَّ اللهَ وَمَليكتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاتِهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلّوا عَلَيْهِ وَسَلّمُوا تَسْلِيمًا - (احزاب:)) ترجمہ :۔اللہ تعالی اور اس کے تمام فرشتے اس نبی پر درود بھیجتے ہیں۔اے ایمان والو تم بھی اس پر درود اور سلام بھیجو اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اکرم کے اعمال ایسے تھے کہ اللہ تعالی نے ان کی تعریف یا اوصاف کی تحدید کرنے کے لئے کوئی لفظ خاص نہیں فرمایا۔لفظ تو مل سکتے تھے لیکن خود استعمال نہ کئے۔یعنی آپ کے اعمال صالحہ کی تعریف تحدید سے بیروں تھی۔اس قسم کی آیت کسی اور نبی کی شان میں استعمال نہ کی۔آپ کے اعمال خدا کی نگاہ میں اس قدر پسندیدہ تھے کہ اللہ تعالٰی نے ہمیشہ کے لئے یہ حکم دیا۔کہ آئندہ لوگ شکر گزاری کے طور پر درود بھیجیں۔ان کی ہمت اور صدق وہ تھا۔کہ اگر ہم اوپر یا نیچے نگاہ کریں تو اس کی نظیر نہیں ملتی۔" (اخبار الحکم جلدے نمبر ۲۵ صفحہ ۶ پر چہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۳ء) نماز میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اصل دعا۔درود شریف دو ہر کے اندر نماز خود دعائے مے کند من دعا ہائے بر و بار تو اے باغ و بہار " ترجمہ:۔ہر شخص اپنی نمازوں میں اپنے لئے دعائیں کرتا ہے۔مگر اے موسم بہار اور باغ! میں آپ ہی کے پھلوں اور پھوٹوں کے لئے دعائیں کیا کرتا ( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه (۲۶) ہوں۔