رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 69 of 169

رسالہ درود شریف — Page 69

ر ساله درود شریف HA نماز میں درود وغیرہ اذکار دلی جوش سے پڑھنے کی ہدایت ” جہاں تک ہو سکے۔پاک اور صاف ہو کر اور نفی خطرات کر کے نماز ادا کریں۔اور کوشش کریں۔کہ نماز ایک گری ہوئی حالت میں نہ رہے۔اور اس کے جس قدر ارکان حمد وثناء حضرت عزت اور توبہ و استغفار اور دعا اور درود ہیں۔وہ دلی جوش سے صادر ہوں" (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۳۵) نماز میں درود و غیرہ اذکار اپنی زبان میں بھی پڑھنے کی ہدایت ”نمازوں میں دعائیں اور درود ہیں۔یہ عربی زبان میں ہیں۔مگر تم پر حرام نہیں۔کہ نمازوں میں اپنی زبان میں بھی دعائیں مانگا کرو۔ورنہ ترقی نہ ہو گی۔خدا کا حکم ہے کہ نماز وہ ہے جس میں تضرع اور حضور قلب ہو۔ایسے ہی لوگوں کے گناہ دور ہوتے ہیں۔“ (الحکم جلد ۸ پر چہ ۱۰ ۷ انو مبر ۱۹۰۴ء) معذوری کی حالت میں نماز تہجد کی بجائے درود و غیرہ اذکار "اگر کوئی شخص بیمار ہو۔یا کوئی اور ایسی وجہ ہو۔کہ وہ تہجد کے نوافل ادانہ کر سکے۔تو وہ اٹھ کر استغفار۔درود شریف اور الحمد شریف ہی پڑھ لیا (ڈائری یکم نومبر ۱۹۰۳ء) (منقول از البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ صفحه ۳۳۵) 119 دعاء استخارہ میں درود شریف رساله درود شریف (1) ” میں ایک آسان صورت رفع شک کی بتلاتا ہوں۔جس سے ایک طالب صادق انشاء اللہ مطمئن ہو سکتا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اول تو بہ نصوح کر کے رات کے وقت دو رکعت نماز پڑھیں۔جس کی پہلی رکعت میں سورہ ین اور دوسری رکعت میں اکیس مرتبہ سورہ اخلاص ہو۔اور پھر بعد اس کے تین سو مرتبہ درود شریف اور تین سو مرتبہ استغفار پڑھ کر خدا تعالیٰ سے یہ دعا کریں۔کہ اے قادر کریم تو پوشیدہ حالات کو جانتا ہے۔اور ہم نہیں جانتے۔اور مقبول اور مردود اور مفتری اور صادق تیری نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔پس ہم عاجزی سے تیری جناب میں التجا کرتے ہیں کہ اس کا تیرے نزدیک جو مسیح موعود اور مہدی اور مجدد الوقت ہونے کا دعوی کرتا ہے۔کیا حال ہے۔۔۔۔سو اگر تو خدا تعالیٰ سے کوئی خبر دریافت کرنا چاہیے۔تو اپنے سینہ کو بکلی بغض اور عناد سے دھو ڈال اور اپنے تئیں بکلی خالی النفس کر کے اور دونوں پہلوؤں بغض اور محبت سے الگ ہو کر اس سے ہدایت کی روشنی مانگ۔کہ وہ ضرور اپنے وعدہ کے موافق اپنی طرف سے روشنی نازل کرے گا جس پر نفسانی اوہام کا کوئی دخان نہیں ہو گا۔" انشان آسمانی طبع اول صفحه ۴۱۴۴۰) Geir (۳) قُومُوا فِي أَوَاخِرِ اللَّيَالِي وَتَوَضَّوا ثُمَّ صَلُّوا رَكَعَاتٍ وَابْكُوا وَ تَضَرَّعُوا وَصَلُّوا عَلَى النَّبِيِّ الكَرِيمِ وَسَلّمُوا تُم اسْتَغْفِرُوا لِأَنْفُسِكُمْ وَاسْتَخْبِرُوا وَدَاوِمُوا عَلَى هَذَا ارْبَعِينَ يَوْمَا وَلَا تَسْتَمُوا فَسَتَجِدُونَ مِنَ اللَّهِ امْرَايَقُودُكُمْ