رسالہ درود شریف — Page 68
رساله درود شریف 119 نازل ہوں۔اور اس کا جلال دنیا اور آخرت میں چمکے۔اور اسی مطلب پر انعقاد ہمت ہونا چاہئے۔اور دن رات دوام توجہ چاہئے۔یہاں تک کہ کوئی مراد اپنے دل میں اس سے زیادہ نہ ہو۔پس جب اس طور پر یہ درود شریف پڑھا گیا۔تو وہ رسم اور عادت سے باہر ہے۔اور بلاشبہ اس کے عجیب انوار صادر ہوں گے۔اور حضور نام کی ایک یہ بھی نشانی ہے۔کہ اکثر اوقات گریہ و بکا ساتھ شامل ہو اور یہاں تک یہ توجہ رگ اور ریشہ میں تاثیر کرے کہ خواب اور بیداری یکساں ہو جائے۔" (ماخوذ از مکتوب حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام مورخہ ۱۵ اپریل ۱۸۸۳ء مطابق ۱۷ جمادی الثانی ۱۳۰۰ھ منقول از الحکم جلد دوم نمبر ۷ ۲۸،۲ صفحه و مکتوبات احمد یہ جلد اول صفحه ۱۳۶۱۲) درود شریف آنحضرت مسلم کی ذاتی محبت کی بنا پر پڑھنا چاہئے " آپ درود شریف کے پڑھنے میں بہت ہی متوجہ رہیں۔اور جیسا کہ کوئی اپنے پیارے کے لئے فی الحقیقت برکت چاہتا ہے۔ایسے ہی ذوق اور اخلاص سے حضرت نبی کریم میں کے لئے برکت چاہیں۔اور بہت ہی تضرع سے چاہیں۔اور اس تضرع اور دعا میں کچھ بناوٹ نہ ہو۔بلکہ چاہئے۔کہ حضرت نبی کریم سے کچی دوستی اور محبت ہو۔اور فی الحقیقت روح کی سچائی سے وہ برکتیں آنحضرت ملا کے لئے مانگی جائیں۔کہ جو درود شریف میں مذکور ہیں۔۔۔۔۔اور ذاتی محبت کی یہ نشانی ہے۔کہ انسان کبھی نہ تھکے اور نہ ملول ہو۔اور نہ اغراض نفسانی کا دخل ہو۔اور محض اس غرض کے لئے پڑھے کہ آنحضرت اور پر خداوند کریم کے برکات ظاہر ہوں" (مکتوبات احمد یہ جلد اول صفحہ ۲۵۷۲۴) 114 رساله درود شریف آنحضرت پر درود روحانی جوش سے بھیجنا چاہئے۔درود کی حکمت و اگر چہ آنحضرت میمی کو کسی دوسرے کی دعا کی حاجت نہیں۔لیکن اس میں ایک نہایت عمیق بھید ہے۔جو شخص ذاتی محبت سے کسی کے لئے رحمت اور برکت چاہتا ہے وہ یباعث علاقہ ذاتی محبت کے اس شخص کے وجود کی ایک جزو ہو جاتا ہے۔پس جو فیضان شخص مدعولہ پر ہوتا ہے۔وہی فیضان اس پر ہو جاتا ہے۔اور چونکہ آنحضرت پر فیضان حضرت احدیت کے و المسلم صلی کالی آروم بے انتہا ہیں۔اس لئے درود بھیجنے والوں کو کہ جو ذاتی محبت سے آنحضرت کے لئے برکت چاہتے ہیں۔بے انتہا برکتوں سے بقدر اپنے جوش کے حصہ ملتا ہے۔مگر بغیر روحانی جوش اور ذاتی محبت کے یہ فیضان بہت ہی کم ظاہر ہوتا ہے۔" (مکتوبات احمد یہ جلد اول صفحه ۲۵٬۲۴) درود شریف کو لذت اور انشراح سے پڑھنے کی ہدایت ” درود شریف کے پڑھنے کی مفصل کیفیت پہلے لکھ چکا ہوں۔۔۔کسی تعداد کی شرط نہیں۔اس قدر پڑھا جائے۔کہ کیفیت صلوۃ سے دل مملو ہو جائے۔اور ایک انشراح اور لذت اور حیات قلب پیدا ہو جائے۔اور اگر کسی وقت کم پیدا ہو۔تب بھی بیدل نہیں ہونا چاہئے۔سو جس قدر میسر آوے۔اس کو کبریت احمر سمجھے۔اور اس میں دل و جان سے مصروفیت اختیار کرے" (مکتوبات احمد یہ جلد اول صفحہ ۲۶)