رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 63 of 169

رسالہ درود شریف — Page 63

رساله درود شریف اس شخص میں متحقق ہے۔14 اور ایسا ہی الہام متذکرہ بالا میں جو آل رسول پر درود بھیجنے کا حکم ہے۔سو۔اس میں بھی یہی سر ہے کہ افاضہ انوار الہی میں محبت اہل بیت کو بھی نہایت عظیم دخل ہے۔اور جو شخص حضرت احدیت کے مقربین میں داخل ہوتا ہے وہ انہیں طیبین طاہرین کی وراثت پاتا ہے۔اور تمام علوم و معارف میں ان کا وارث ٹھہرتا ہے۔اس جگہ ایک نہایت روشن کشف یاد آیا۔اور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ نماز مغرب کے بعد مین بیداری میں ایک تھوڑی سی غیبت حس سے جو خفیف سے نشاء سے مشابہ تھی ایک عجیب عالم ظاہر ہوا۔کہ پہلے یکد فعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی۔جیسے بہ سرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے۔پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آگئے۔جناب پیغمبر و حضرت علی و حسنین و فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہم اجمعین۔اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے۔کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نہایت محبت اور شفقت سے مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔پھر بعد اس کے ایک کتاب مجھ کو دی گئی۔جس کی نسبت یہ بتلایا گیا۔کہ یہ تفسیر قرآن ہے۔جس کو علی نے تالیف کیا ہے اور اب علی وہ تفسیر تجھ کو دیتا ہے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ (براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۵۹۷) (۳) سَلَام عَلَيْكَ يَا إِبْرَاهِيمُ إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينُ امِينَ - ذُو عَقْلٍ مَّتِينٍ - حِبُّ اللَّهِ خَلِيلُ اللَّهِ اسَدُ اللهِ وَصَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ" رساله درود شریف تیرے پر سلام ہے اے ابراہیم۔تو آج ہمارے نزدیک صاحب مرتبہ اور امانتدار اور قوی العقل ہے۔اور دوست خدا ہے۔خلیل اللہ ہے۔اسد اللہ ہے۔محمد پر درود بھیج یعنی یہ اسی نبی کریم کی متابعت کا نتیجہ ہے۔" (براہین احمد یه روحانی خزائن جلد ا صفحه (۲۶۶) (۴) ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا۔کہ درود شریف کے پڑھنے میں یعنی آنحضرت میمی دلم پر درود بھیجنے میں ایک زمانہ تک مجھے بہت استغراق رہا۔کیونکہ میرا یقین تھا کہ خدا تعالیٰ کی راہیں نہایت دقیق راہیں ہیں۔وہ بجز وسیلہ نبی کریم کے مل نہیں سکتیں۔جیسا کہ خدا بھی فرماتا ہے۔وَابْتَغُوا الَيْهِ الْوَسِيلَةَ - تب ایک مدت کے بعد کشفی حالت میں میں نے دیکھا کہ دوستے یعنی ماشکی آے۔اور ایک اندرونی راستے سے اور ایک بیرونی راستے سے میرے گھر میں داخل ہوئے ہیں۔اور ان کے کاندھوں پر نور کی مشکیں ہیں۔اور کہتے ہیں:۔له هُذَا بِمَا صَلَّيْتَ عَلَى مُحَمَّدٍ “ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۳۱ حاشیہ) (۵) ایک مرتبہ میں سخت بیمار ہوا۔یہاں تک کہ تین مختلف وقتوں میں میرے وارثوں نے میرا آخری وقت سمجھ کر مسنون طریقہ پر مجھے تین مرتبہ اہ اس تک پہنچنے کے لئے اس کا بتایا ہوا وسیلہ اختیار کرو۔۔یہ اس بات کی وجہ سے ہے۔کہ تم نے آنحضرت مسلم پر درود بھیجا ہے۔