رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 33 of 169

رسالہ درود شریف — Page 33

رساله درود شریف My رساله درود شریف عورتوں کی نسبت تو یوں فیصلہ ہوا کہ ان خاوند دں سے ان کا نکاح حرام کر دیا گیا جن کی حرمت قرآن میں آگئی ہے۔و جَعَلْتَ دَشَكَرَةَ الْمُدَامِ مُخَرَّب وَ أَزَلْتَ حَانْتَهَا مِنَ الْبُلْدَانِ اور شراب خانون کو تو نے ویران کر دیا اور شراب کی دکانیں شہروں ے اٹھوادیں۔كُمْ شَارِبِ بِالرَّشْفِ دَنَّا طَافِعًا فَجَعَلْتَهُ فِي الدِّينِ كَالنَّشَوَانِ بہتیرے تھے جو غم کے غم نے پی جاتے تھے جنہیں تو نے دین کے متوالے کر دیا۔كُمْ مُحْدِرٍ مُسْتَنْطِقِ الْعِيْدَانِ قَدْ صَارَ مِنْكَ مُحَدَّثَ الرَّحْمَانِ بہتیرے بد کردار سارنگیوں سے باتیں کرنے والے جو تیرے رحمان کے ہمکلام ہو گئے۔كُمْ مُسْتَهَامٍ لِلرَّسُوفِ تَعَدُّما طفیل فَجَذَبْتَهُ جَذبًا إِلَى الْفُرْقَانِ بہتیرے تھے جو خوشبو دہن عورتوں کے عشق میں سرگردان تھے۔تو نے انہیں فرقان کی طرف کھینچ لیا۔أحْيَيْتَ أَمْوَاتَ الْقُرُونِ بِجَلْوَةٍ مَاذَا يُمَائِلُكَ بِهَذَا الشَّانِ تو نے صدیوں کے مردوں کو ایک بلوہ سے زندہ کر دیا کون ہے جو اس شان میں تیرے جیسا ہے۔تركوا الْعَبُوقَ وَ بَدَّلُوا مِنْ ذَوقِهِ ذوقَ الدُّعَاءِ بِلَيْلَةِ الْأَحْزَانِ انہوں نے شام کی شراب چھوڑ دی اور اس کی لذت کی بجائے غم کی راتوں میں دعا کی لذت اختیار کرلی۔كَانُوا بِرَتِّاتِ الْمَثَانِي قَبْلَهَا قَدْ أَحْصِرُوا فِي شُحِهَا كَالْعَانِي اس سے پہلے وہ دو تاروں کی سروں کی محبت میں قیدیوں کی طرح گرفتار تھے۔قَدْ كَانَ مَرْتَعَهُمْ أَغَانِيُّ دَائِمًا طورا بعيد تَارَةً بِدِنَانٍ ہمیشہ ان کی فرحت و خوشی کا میدان راگ رنگ تھا۔کبھی نازک اندام عورتوں کے امیر اور کبھی خم مے کے گرفتار۔مَا كَانَ فِكْرُ غَيْرُ فِكْرِ غُوَانِي أو شرب راح أو خَيَالِ جِفَانٍ حسینہ عورتوں سے دلبستگی کے سوا اور کچھ فکر ہی نہ تھی۔یا شراب نوشی تھی یا سامان خور و نوش کا تصور تھا۔كَانُوا كَمَشْعُوْفِ الْفَسَادِ بِجَهْلِهِمْ راضِينَ بِالْأَوْسَاخِ وَ الْأَدْرَانِ یوقوفی سے فساد کے شیفتہ تھے۔میل کچیل اور ناپاکی پر خوش تھے۔عَيْبَانِ كَانَ شِعَارَهُمْ مِنْ جَهْلِهِمْ