رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 103 of 169

رسالہ درود شریف — Page 103

رساله درود شریف HAY آیت کے تکرار کے ساتھ سجدہ کا تکرار ضروری نہیں ہوتا۔اور نہ ہی یہ ضروری ہوتا ہے کہ ہر حالت میں فورا ہی سجدہ بھی کیا جائے۔بلکہ ایک ہی بار سجدہ کر لینا کافی ہوتا ہے۔اور موقع کے مطابق اس میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔اسی طرح آنحضرت میں کے ایسے رنگ میں تکرار ذکر کے موقع پر ایک ہی مرتبہ درود پڑھنا اور عند الضرورت کسی قدر وقفہ کے بعد پڑھنا بھی اس حکم پر عمل کرنے کے لئے کافی ہو سکتا ہے۔چنانچہ اس کی مثالیں عبادت میں اور دینی عبارات میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔عبادات میں ایک مثال تو اس کی اذان ہی ہے۔جس میں کم از کم دو بار آنحضرت میں اللہ کا ذکر آتا ہے۔لیکن اذان کے اندر درود ایک بار بھی نہیں پڑھا جاتا۔بلکہ اذان کے ختم ہونے پر (خاص مسنون الفاظ میں) درود بھیجا جاتا ہے۔اسی طرح تکبیر اقامت میں بھی درود نہیں پڑھا جاتا۔اقامت کے بعد یا قَدْ قَامَتِ الصَّلوة کا کلمہ کہا جانے پر آنحضرت مما لا السلام کے لئے دعا کرنا بعض روایات سے ثابت ہے۔اس کے علاوہ پہلے تشہد نماز کے آخر میں کلمہ شہادت کے ضمن میں آنحضرت کا ذکر آتا ہے۔اور اس موقع پر درود بھیجنا سنت سے ثابت نہیں۔بلکہ وہی درود کافی ہوتا ہے۔جو السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ کے الفاظ میں اس سے پہلے آچکا ہوتا ہے۔اور بعض مواقع پر تو یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کے ذکر سے پہلے یا پیچھے کہیں درود پڑھا جاتا ہو۔مثلاً جب صحابہ کرام آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر "یا رسول اللہ " کے الفاظ سے آپ کو مخاطب کرتے تھے۔تو وہ ان الفاظ کے بعد درود نہیں پڑھتے تھے۔پس ایسے رنگ میں ذکر آنے کے موقع پر درود کا بھیجنا ضروری نہیں ہوتا۔اور اگر غور سے دیکھا جائے تو حضرت مسیح ر ساله درود شریف موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قصیدہ نعتیہ (عجب نوریست در جان محمد) بھی اسی کی ایک مثال ہے۔اور حضور کے کلام منشور میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔کہ آنحضرت اللہ کے اسم مبارک کا بار بار ذکر آنے پر ہر بار درود کا اعادہ نہیں کیا گیا۔جس کی ایک مثال میں اس جگہ پیش کرتا ہوں حضور فرماتے ہیں:۔اس احقر نے ۱۸۶۴ یا ۱۸۶۵ عیسوی میں یعنی اسی زمانہ کے قریب کہ جب یہ صنعیف اپنی عمر کے پہلے حصہ میں ہنوز تحصیل علم۔میں مشغول تھا۔جناب خاتم الانبیاء سلم کو خواب میں دیکھا۔اور اس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی۔کہ جو خود اس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔آنحضرت میں نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا۔کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے۔خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام میں نے قطبی رکھا ہے۔جس نام کی تعبیر اب اس اشتہاری کتاب کی تالیف ہونے پر یہ کھلی۔کہ وہ ایسی کتاب ہے کہ جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے۔جس کے کامل استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا گیا ہے۔غرض آنحضرت نے وہ کتاب مجھ سے لے لی۔اور جب وہ کتاب حضرت مقدس نبوی کے ہاتھ میں آئی تو آنجناب کا ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوش رنگ اور خوبصورت میوہ بن گئی۔کہ جو امرود سے مشابہ تھا مگر بقدر تربوز تھا۔آنحضرت نے جب اس میوہ کو تقسیم کرنے کے لئے قاش قاش کرنا چاہا۔تو اس قدر اس میں سے شہد نکلا کہ آنجناب کا