The Revealed Sermon

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 96

The Revealed Sermon — Page 27

THE REVEALED SERMON وَعِنَاقِهِنَّ، وَبَعْدَ هَذَا نِطَاقِهِنَّ فَإِنَّا لِلَّهِ عَلَى و بغل گیری ایشاں و پس ازیں جائے کمر بند ایشاں یعنی بدکاری بایشاں۔ پس بر مصیبت ہائے اسلام اور گلے لپٹانا اور بعد اس کے ان کا جائے کمر بند۔ پس ہم اسلام کی مصیبتوں پر مَصَائِبِ الْإِسْلَامِ، وَانْقِلَابِ الْأَيَّامِ مَاتَتِ الْقُلُوبُ، انا الله پڑھتے ہیں انا الله می باید گفت و بریں نیز ہم کہ ہر روز ہائے اسلام گردش آمد دل با مردند اور نیز دنوں کی گردش پر دل مر گئے وَكَثُرَتِ الذُّنُوبُ، وَاشْتَدَّتِ الْكُرُوبُ. فَعِنْدَ وگنه با بسیار شدند و بے قراری با سخت شدند پس اور گناہ بہت ہو گئے اور بے قراریاں بڑھ گئیں پس اس هَذِهِ اللَّيْلَةِ اللَّيْلَاءِ، وَظُلُمَاتِ الْهَوْجَاءِ، بر وقت این شب تاریک اندھیری رات کے وقت و تاریکی ہائے باد تند اور تند ہوا کی تاریکی کے وقت اقْتَضَى رُحْمُ اللهِ نُورَ السَّمَاءِ. <١> فَأَنَا ذَلِكَ بخواست رحمت الہی نور آسمان را خدا کے رحم نے تقاضا کیا کہ آسمان سے نور نازل ہو پس من سو میں کم and embracing them, and after that [reaching for] their girdles. We say innā lillāh [surely, to Allah we belong] on account of the plights that have descended upon Islam, and the vicissitude of the times. Hearts have died, and sins have become rampant while grief has intensified. Thus in the black of night, and in the darkness of the stormy winds, the mercy of Allah demanded the descent of heavenly light. * Accordingly, I am that * See footnote number 1 on page 60. [Publisher] 27