The Revealed Sermon

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 96

The Revealed Sermon — Page 9

THE REVEALED SERMON يَفْهَمَ هَذِهِ الْحَقِيقَةَ وَيَجْعَلَهَا عَيْنَ الْمَقْصُودِ، این حقیقت را بفهمد وایس را عین مقصود خود بگرداند اس حقیقت کو سمجھے اور اور اس اس کو کو اپنے اپنے مقصود کا عین قرار دے وَيُدْخِلَهَا فِي نَفْسِهِ حَتَّى تَسْرِيَ فِي كُلِّ ذَرَّةِ الْوُجُودِ، و در در نفس خود ایں حقیقت را در آرد تا آنکه ہر ذرہ وجود سرایت کند اور اس حقیقت کو اپنے نفس کے اندر داخل کرے یہاں تک کہ وہ حقیقت ہر ذرہ وجود میں داخل ہو جائے۔ وَلَا يَهْدَأُ وَلا يَسْكُنْ قَبْلَ أَدَاءِ هَذِهِ الضَّحِيَّةِ و راحت و آرام اختیار نه کند تا بوقتی که این قربانی را برائے رب معبود خود اور راحت اور آرام اختیار نہ کرے جب تک کہ اس قربانی کو اپنے رب معبود کے لئے لِلرَّبِّ الْمَعْبُودِ، وَلا يَقْنَـعْ بِـنَمُوذَجِ وَقِشْرِ نگذارد و ہمچو ناداناں و جاہلان محض بر نمونه و پوست ادانہ کرلے۔ اور جاہلوں اور نادانوں کی طرح صرف نمونہ اور پوست بے معز كَالْجُهَلاءِ وَالْعُمْيَانِ ، بَلْ يُؤَدِّي حَقِيقَة قناعت نه ورزد پر قناعت نہ کر بیٹھے بلکه باید که حقیقت قربانی خود را بلکہ چاہئے کہ اپنی قربانی کی حقیقت لو to understand this reality, so as to make it as their ultimate objective, and to imbue this reality into their own being until it permeates every particle of their existence. They should not rest or sit at ease until they have offered this sacrifice for the Lord whom they worship, and not be content-like the foolish and ignorant-with the outer form and hollow shell. Rather, one ought to offer true 9