عہدیدارانِ جماعت کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 16 of 23

عہدیدارانِ جماعت کی ذمہ داریاں — Page 16

کے موقع کو فضل الہی سمجھیں ، نہ کہ اپنے کسی تجربے یا لیاقت اور قابلیت کی وجہ۔پھر ایک وصف عہد یداران میں جو ہونا چاہئے وہ بشاشت ہے اور خوش اخلاقی سے پیش آنا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا۔(البقرة: 84) یعنی اور لوگوں کے ساتھ نرمی سے بات کیا کرو۔اور ان سے خوش اخلاقی سے پیش آؤ۔پس یہ بھی ایک بنیادی خلق ہے جو عہد یداروں میں بہت زیادہ ہونا چاہئے۔اپنے ماتحتوں سے، اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے بھی جب بات چیت کریں اور اسی طرح جب دوسرے لوگوں سے بھی بات کریں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ہونا چاہئے۔بعض دفعہ انتظامی معاملات کی وجہ سے سختی سے بات کرنے کی ضرورت پڑ جاتی ہے لیکن یہ ضرورت انتہائی قدم ہے اور اگر پیار سے کسی کو سمجھایا جائے اور عہد یدارلوگوں کو یہ احساس دلا دیں کہ ہم تمہارے ہمدرد ہیں تو ننانوے فیصد ایسے لوگ ہیں جو سمجھ جاتے ہیں اور جماعت سے اس لئے تعاون کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں کہ جماعت سے ان کو ایک تعلق ہے۔لیکن بڑی اور اہم شرط یہی ہے کہ لوگوں میں یہ احساس پیدا کیا جائے یا لوگوں کو یہ احساس ہو جائے کہ عہدیدار ہمارے ہمدرد ہیں۔نرمی سے لوگوں سے بات کریں۔کسی کی غلطی پر شروع میں ہی اس طرح پکڑ نہ کر لیں کہ دوسرے کو اپنی صفائی کا صحیح طرح موقع ہی نہ ملے۔ہاں جو عادی ہیں، بار بار کرنے والے ہیں، بات بات پر فتنہ اور فساد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے ساتھ سختی بھی کرنی پڑتی ہے لیکن اس کے لئے پوری طرح تحقیق ہونی چاہئے۔اور پھر ساتھ ہی یہ تختی بھی ذاتی عناد کی شکل اختیار کرنے والی نہیں ہونی چاہئے بلکہ اصلاح کے لئے ہونی چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر اپنے مقرر کردہ یمن کے والیوں کو یہ نصیحت فرمائی تھی کہ لوگوں کے لئے آسانی پیدا کرنا من 17 مشکلیں