عہدیدارانِ جماعت کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 20 of 23

عہدیدارانِ جماعت کی ذمہ داریاں — Page 20

نے تو چندہ دیا تھا۔لیکن ریکارڈ رکھنے والوں نے ، دفتر نے صحیح ریکار ڈ نہیں رکھا۔ایک تو ایسی رپورٹ بلا وجہ موصی کو پریشان کرنے کا موجب بنتی ہے۔دوسرے جماعتی نظام کی کمزوری کا بھی برا اثر پڑتا ہے۔اب تو ٹھوس حسابات کا انتظام ہو چکا ہے۔بڑا systematic طریقہ ہے۔کمپیوٹر ہیں، سب کچھ ہیں۔ایسی غلطی ہونی نہیں چاہئے۔ہر ملک کے سیکرٹریان وصایا اور سیکرٹریان مال اپنے ملک کی ہر جماعت کے متعلقہ سیکرٹریان کو فعال کریں اور امرائے جماعت کا بھی یہ کام ہے کہ اس کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیتے رہا کریں۔صرف چندہ جمع کرنا اور اس کی رپورٹ کرنا ان کا کام نہیں ہے بلکہ اس نظام کو قابل اعتماد بنانا اور مرکز اور مقامی جماعتی نظام میں مضبوط ربط پیدا کرنا بھی امراء کا کام ہے۔اسی طرح ایک بات مبلغین اور مربیان کے حوالے سے بھی کہنا چاہتا ہوں۔بعض جگہ مربیان مبلغین کی باقاعدہ ہر ماہ میٹنگز نہیں ہوتیں۔مبلغ انچارج اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ یہ میٹنگز با قاعدہ ہوں۔جماعتی تربیتی اور تبلیغی کاموں کا بھی جائزہ ہو۔جو بہتر کام کسی نے کیا ہے اس کے بارہ میں تبادلہ خیال ہو اور کسی کی طرف سے اس بہتر کام کا جوطریقہ کار اپنایا گیا تھا اُس سے دوسرے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔اسی طرح جو جماعتی سیکرٹریان جماعتوں کو ہدایت دیتے ہیں یا مرکز کی ہدایت پر جماعتوں کو ہدایت بھجوائی جاتی ہے اس بارے میں بھی رپورٹ دیں۔مربیان یہ بھی دیکھا کریں کہ ہر جماعت میں اس سلسلے میں کتنا کام ہوا ہے اور جہاں سیکرٹریان فعال نہیں ہیں۔خاص طور پر تبلیغ اور تربیت اور مالی قربانی کے معاملے میں وہاں مربیان اور مبلغین انہیں توجہ دلائیں۔اللہ تعالیٰ تمام عہدیداروں کو توفیق دے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو آئندہ تین سال کے لئے خدمت کا موقع دیا ہے اس میں وہ زیادہ سے زیادہ کام اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ہاتھ سرانجام دے سکیں اور اپنے ہر قول وفعل سے جماعت میں نمونہ بننے والے ہوں۔21