عہدیدارانِ جماعت کی ذمہ داریاں — Page 17
پیدا کرنا۔اور محبت اور خوشی پھیلانا۔نفرت کو نہ پہنچنے دینا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحه 638 حدیث 19935 مسند ابو موسیٰ الاشعری مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) پس یہ ایسی نصیحت ہے جو عہدیداروں اور افراد جماعت کے درمیان بھی تعلقات میں خوبصورتی پیدا کرتی ہے اور پھر اس کے نتیجہ میں آپس میں افراد جماعت میں بھی ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنے کی روح پیدا ہوتی ہے۔پس عہد یداروں کی اور خاص طور پر امراء،صدران اور تربیت کے شعبوں اور فیصلہ کرنے والے اداروں کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے طریق سوچیں۔لیکن یہ بھی خیال رہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے اندر رہتے ہوئے یہ طریق اختیار کرنے ہیں۔دنیا داروں کی طرح نہیں کہ آسانیاں پیدا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کے حکموں کو بھول جائیں۔ہم نے شریعت کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ، خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھتے ہوئے بندوں کے بھی حق ادا کرنے ہیں اور اپنے عہدوں اور اپنی امانتوں کی بھی حفاظت کرنی ہے۔پھر جیسا کہ میں نے کہا کہ قواعد وضوابط کی کتاب کو ہر عہد یدار کو دیکھنا چاہئے اور اپنے شعبے کے کاموں کا علم حاصل کرنا چاہئے۔ہر ایک کو اپنی حدود کا علم ہونا چاہئے۔بعض دفعہ عہد یداروں کو اپنی حدود کا بھی پتا نہیں ہوتا۔ایک شعبہ ایک کام کر رہا ہوتا ہے جبکہ قواعد وضوابط میں دوسرے شعبہ میں وہ کام لکھا ہوتا ہے۔یا بعض دفعہ ایسا باریک فرق کاموں کے بارے میں ہوتا ہے جس پر غور نہ کرتے ہوئے دو شعبے ایک دوسرے کی حد میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں۔18