عہدیدارانِ جماعت کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 15 of 23

عہدیدارانِ جماعت کی ذمہ داریاں — Page 15

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے وقت میں ایک عہد یدار کا خیال تھا کہ میری حکمت عملی اور میری محنت کی وجہ سے مالی نظام بہت عمدہ طور پر چل رہا ہے۔حضرت خلیفہ مسیح الثالث کو جب یہ پتا چلا تو آپ نے اس کو ہٹا کر ایک ایسے شخص کو اس کام پر مقررکردیا جس کو مال کی الف ب بھی نہیں پتا تھی۔لیکن کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور خلیفہ وقت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا جو سلوک ہے اس وجہ سے نئے آنے والے افسر جس کو کچھ بھی نہیں پتا تھا اس کے کام میں اتنی برکت پڑی کہ اس سے پہلے کبھی تصور بھی نہیں تھا۔پس عہدیداروں کو تو اللہ تعالیٰ موقع دیتا ہے۔جماعتی کارکنوں کو تو اللہ تعالیٰ موقع دیتا ہے۔واقفین زندگی کو تو خدا تعالیٰ موقع دیتا ہے کہ وہ جماعت کی اور دین کی خدمت کر کے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں ورنہ کام تو خود اللہ تعالیٰ کر رہا ہے اور یہ اس کا وعدہ ہے۔اس لئے کسی کے دل میں یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ میرا تجربہ اور میر اعلم جماعت کے کاموں کو چلا رہا ہے یا میرا تجربہ اور علم جماعت کے کاموں کو چلا سکتا ہے۔جماعت کے کا موں کو خدا تعالیٰ کا فضل چلا رہا ہے۔ہماری بہت ساری کمزوریاں، کمیاں ایسی ہیں کہ اگر دنیاوی کام ہو تو ان میں وہ برکت پڑ ہی نہیں سکتی۔ان کے وہ اچھے نتیجےنکل ہی نہیں سکتے۔لیکن اللہ تعالیٰ پردہ پوشی فرماتا ہے اور خود فرشتوں کے ذریعہ سے مدد فرماتا ہے۔تبلیغ کے مثلاً کام ہیں۔اس میں ہی ان مغربی ممالک میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہاں پلے بڑھے ایسے نوجوان کارکن مہیا کر دیئے ہیں جنہوں نے اپنے طور پر دینی علم حاصل کیا ہے اور پھر مخالفین احمدیت کا منہ بند کرتے ہیں اور ایسے جواب دیتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے اور پھر بہت سارے ایسے نوجوان ہیں جن کے اس طرح کے جوابوں سے مخالفین کو راہ فرار کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔پس عہد یدار خدمت دین 16