عہدیدارانِ جماعت کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 19 of 23

عہدیدارانِ جماعت کی ذمہ داریاں — Page 19

پھر امراء اور صدران اور جماعتی سیکرٹریان کا یہ بھی بہت اہم کام ہے کہ مرکز سے جو ہدایات جاتی ہیں یا سرکلر جاتے ہیں ان پر فوری اور پوری توجہ سے عملدرآمد کریں اور اپنی جماعتوں کے ذریعہ بھی کروایا جائے۔بعض جماعتوں کے بارے میں یہ شکایات ملتی ہیں کہ مرکزی ہدایات پر پوری طرح عمل نہیں کیا جاتا۔اگر کسی ہدایت کے بارے میں کسی خاص ملک یا جماعت کوملکی حالات کی وجہ سے کچھ تحفظات ہوں تو پھر بھی فوری طور پر مرکز سے رابطہ کر کے حالات کے مطابق اس میں تبدیلی کرنے کی درخواست کرنی چاہئے اور یہ کام امیر جماعت اور صدر کا ہے۔لیکن یہ کسی طور پر بھی مناسب نہیں کہ اپنی عقل لڑاتے ہوئے اس ہدایت کو ایک طرف رکھ کر دبا دیا جائے اور اس پر عمل نہ کروایا جائے اور نہ ہی مرکز کو اطلاع کی جائے۔کسی بھی امیر یا صدر جماعت کی جو یہ حرکت ہے یہ مرکز گریز رویہ سمجھی جائے گی اور اس بارہ میں پھر مرکز کارروائی بھی کر سکتا ہے۔موصیان کے بارہ میں بھی میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پہلی بات تو موصیان کو یہ یاد رکھنی چاہئے کہ اپنے چندے کی باقاعدہ ادا ئیگی اور اس کا حساب رکھنا ہر موصی کی اپنی ذمہ داری ہے۔لیکن مرکزی دفتر اور متعلقہ سیکرٹریان کا بھی کام ہے کہ ہر موصی کا حساب مکمل رکھیں اور جب ضرورت ہو انہیں یاد دہانی بھی کروائیں کہ ان کے چندے کی کیا صورتحال ہے؟ ملکی جماعت کا کام ہے کہ مقامی جماعتوں کے سیکرٹریان کو فعال کریں اور ہر موصی ان کے رابطے میں ہو۔بعض دفعہ دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی معاملے میں کسی شخص کے بارے میں رپورٹ منگوائی جاتی ہے اور وہ شخص موصی ہوتا ہے۔رپورٹ میں ذکر کر دیا جاتا ہے کہ اس نے اتنے عرصے سے وصیت کا چندہ نہیں دیا۔جب پوچھا جائے کہ وصیت کا چندہ نہیں دیا تو وصیت کس طرح قائم ہے؟ تو پھر تحقیق کرنے پر پتا چلتا ہے کہ موصی کا قصور نہیں تھا۔اس 20