رسومات کے متعلق تعلیم — Page 8
8 کو اختیار کر لیا۔جیسا کہ حضرت اقدس فرماتے ہیں : قَدُ اثَرُوكَ وَفَارَقُوا اَحبَ وَتَبَاعَدُوا مِنْ حَلْقَةِ الْإِخْوَانِ قَدْ وَدَّعُوا أَهْوَاءَ هُمْ وَنُفُوسَهُمُ وَتَبَرَّؤُوا مِنْ كُلِّ نَبِ فَـــــان ظَهَرَتْ عَلَيْهِمُ بَيِّنَاتُ رَسُولِهِم فَتَمَزَّقَ الْاهُوَاءُ كَالا وثَـــــان ترجمہ:۔کہ انہوں نے تجھے اختیار کیا اور اپنے دوستوں سے جدا ہو گئے۔اور اپنے بھائیوں کے دائرہ سے دوری اختیار کر لی۔انہوں نے اپنی خواہشات اور نفسوں کو الوداع کہہ دیا۔اور ہر قسم کے فانی مال و منال سے بیزار ہو گئے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے واضح اور روشن دلائل ان پر ظاہر ہوئے تو ان کی نفسانی خواہشیں بتوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں۔اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں بیان فرمایا ہے۔قَدْ أَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمُ ذِكْرًا رَسُوْلَا يَتْلُوا عَلَيْكُمْ آيَاتِ اللهِ مُبَيِّنَتٍ لِيُخْرِجَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ مِنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ۔( سورة الطلاق :12) ترجمہ :۔اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے شرف کا سامان یعنی رسول اتارا ہے جو تم کو اللہ تعالیٰ کی ایسی آیات سناتا ہے جو ہر نیکی اور بدی کو کھول