رسومات کے متعلق تعلیم

by Other Authors

Page 57 of 61

رسومات کے متعلق تعلیم — Page 57

57 أَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأوى - النزعت : 41 42) جس نے اپنے رب کی شان سے خوف کیا اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا اور خدا تعالیٰ کی خاطر برادری کے تعلقات کی پرواہ نہ کی یقیناً جنت اس کا ٹھکانہ ہے۔اس چیز کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت خلیفہ اصبح الثالث نے فرمایا:۔خدا تعالیٰ کے احکام میں ایک حصہ نوا ہی کا ہے یعنی بعض باتیں ایسی ہیں جن سے وہ روکتا ہے مثلاً دنیوی رسم و رواج ہیں جن کی وجہ سے بعض لوگ اپنی استطاعت سے زیادہ بچوں کی بیاہ شادی پر خرچ کر دیتے ہیں حالانکہ وہ اسراف ہے جس سے اللہ تعالیٰ منع فرماتا ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے رسم و رواج کو پورا کرنے کے لئے خرچ نہ کیا تو ہمارے رشتہ داروں میں ہماری ناک کٹ جائے گی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری خاطر رسم ورواج کو چھوڑ کر اپنی ناک کٹواؤ تب تمہیں میری طرف سے عزت کی ناک عطا کی جائے گی۔خطبات ناصر جلد اوّل صفحہ 216 اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے متعلق جو اللہ تعالیٰ کے تعلقات پر دنیا کے تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں فرماتا ہے سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرُطُومِ (القلم: 17) اس دنیا میں انہوں نے اپنی ناک اونچی رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکام کی پرواہ نہ کی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قیامت کے دن ہم ان اونچی ناکوں کو داغ لگا ئیں گے۔