رسومات کے متعلق تعلیم — Page 31
31 ” ہمارے دین میں دین کی بناء یسر پر ہے عسر پر نہیں اور پھر إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ضروری چیز ہے باجوں کا وجود آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں نہ تھا اعلان نکاح جس میں فسق و فجور نہ ہو جائز ہے۔بلکہ بعض صورتوں میں ضروری شئے ہے کیونکہ اکثر دفعہ نکاحوں کے متعلق مقدمات تک نوبت پہنچتی ہے پھر وراثت پر اثر پڑتا ہے۔اس لئے اعلان کرنا ضروری ہے مگر اس میں کوئی ایسا امر نہ ہو جو فسق و فجور کا موجب ہو۔رنڈی کا تماشا یا آتش بازی فسق و فجور اور اسراف ہے۔یہ جائز نہیں۔“ ملفوظات جلد سوم صفحہ 227 پھر فرماتے ہیں : ” جو چیز بُری ہے وہ حرام ہے اور جو چیز پاک ہے وہ حلال۔خدا تعالیٰ کسی پاک چیز کو حرام قرار نہیں دیتا بلکہ تمام پاک چیزوں کو حلال فرماتا ہے۔ہاں جب پاک چیزوں ہی میں بُری اور گندی چیزیں ملائی جاتی ہیں تو وہ حرام ہو جاتی ہیں اب شادی کو دف کے ساتھ شہرت کرنا جائز رکھا گیا ہے لیکن اس میں جب ناچ وغیرہ شامل ہو گیا تو وہ منع ہو گیا اگر اسی طرح پر کیا جائے جس طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو کوئی حرام نہیں ملفوظات جلد پنجم صفحہ 354 355 رشتہ کرتے وقت صرف تقوی مد نظر ر ہے:۔حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں:۔وو ہماری قوم میں یہ بھی ایک بد رسم ہے کہ دوسری قوم کولڑ کی دینا