راہِ ایمان — Page 57
57 دسواں سبق خلافت کا بابرکت نظام جب اللہ تعالیٰ کسی نبی اور مامور کو وفات دے دیتا ہے تو اُس کے کام کو چلانے کے لئے اس کا قائم مقام اور جانشین مقرر کر دیتا ہے جسے خلیفہ کہتے ہیں۔خلیفہ خُدا بناتا ہے۔اس لئے خلیفہ کو اس کے عہدے سے کوئی نہیں ہٹا سکتا۔اس کی پوری پوری اطاعت اور فرمانبرداری کرنا ضروری ہوتی ہے۔خُدا خلیفہ کی ہر دم مدد اور تائید کرتا ہے۔اس لئے اس کی اطاعت کرنے سے بہت ترقی اور برکت ملتی ہے۔مسلمانوں میں جب تک خلافت قائم رہی وہ ترقی کرتے رہے۔جب اُنہوں نے خلافت کی بے قدری کی اور خلافت مٹ گئی تو پھر اُن کی حالت گرتی ہی چلی گئی۔اگر ہم خلافت کی قدر کریں گے اور خلیفہ وقت کے حکموں کی تابعداری کریں گے تو خُدا اس نعمت کو ہمیشہ قائم رکھے گا۔اور ہم دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرتے چلے جائیں گے۔ہمیں دُعا کرنی چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس نعمت کی قدر کرنے اور اس کی برکتوں سے فائدہ اُٹھانے کی ہمیشہ توفیق دے۔آمین احمدی بچوں کو خلافت کے بارہ میں حضرت المصلح الموعود خلیفتہ اسی الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ وصیت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیئے کہ:۔” میری آخری نصیحت یہ ہے کہ سب برکتیں خلافت میں ہیں۔مبقت ایک بیج ہوتی ہے جس کے بعد خلافت اس کی تاثیر کو دنیا میں پھیلا دیتی ہے۔تم خلافت حقہ کو مضبوطی سے پکڑو اور اس کی برکات سے دنیا کو تمتع کرے۔الفضل ۲۰ مئی ۱۹۵۹ء )