راہِ ایمان — Page 49
49 اور دینوں کو جو دیکھا تو کہیں ٹور نہ تھا کوئی دکھلائے اگر حق کو چھپایا ہم نے آؤ لوگو کہ یہیں نورِ خُدا پاؤ گے! لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے آج ان نوروں کا اک زور ہے اِس عاجز میں دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے نور ملا نور پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے مصطفے پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت اُس سے یہ ٹور لیا بارِ خُدایا ہم نے ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے ہم ہوئے خیر اہم تجھ سے ہی اے خیر رسل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے آدمی زاد تو کیا چیز فرشتے بھی تمام مدح میں تیری وہ گاتے ہیں جو گایا ہم نے ☆☆☆