راہِ ایمان

by Other Authors

Page 34 of 121

راہِ ایمان — Page 34

34 آپ نے لوگوں کو سمجھایا کہ بتوں کو خُدا نہ سمجھو اور خدا کی عبادت کرو تو مکہ کے لوگ جو بتوں کی پوجا کرتے تھے آپ کے سخت دشمن بن گئے۔انہوں نے آپ کو اور آپ کے ماننے والوں کو جو مسلمان کہلاتے تھے سخت تکلیفیں دیں۔طرح طرح کے دکھ اور ظلم کئے۔لیکن آپ نے اور آپ کے صحابہ نے کوئی پرواہ نہ کی۔آپ متواتر تیرہ سال تک دُکھ سہتے رہے۔ظلم برداشت کرتے رہے۔اور دن رات اسلام کی تبلیغ کرتے رہے۔آخر جب فلم حد سے بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ اور آپ کے ساتھی مکہ سے نکل گئے۔اور مدینہ منورہ میں جا کر آباد ہو گئے۔اس واقعہ کو واقعہ ہجرت کہتے ہیں۔دس سال تک آپ وہاں رہ کر تبلیغ کا کام کرتے رہے۔اس عرصہ میں کافروں نے آپ سے کئی جنگیں کیں۔لیکن ہر جنگ کا نتیجہ یہ ہوتا کہ مسلمان ترقی کرتے چلے گئے۔اور اسلام کے دشمنوں کی طاقت کم ہوتی گئی۔بالآخر مکہ بھی فتح ہو گیا۔اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہو گئے۔دشمنوں کا خیال تھا کہ اب مسلمان ہمارے فلموں کا خوب بدلہ لیں گے۔لیکن رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو معاف کر دیا۔اور اس طرح آپ دوست و دشمن سب کے لئے رحمت ثابت ہوئے۔آپ کے اس سلوک اور پاک نمونہ کا یہ نتیجہ نکلا کہ بہت جلد سارا ملک عرب مسلمان ہو گیا۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے بعد صرف دو ۲ سال زندہ رہے۔واقعہ ہجرت کے گیارہ سال بعد ۸ / جون ۱۳۲ ء کو مدینہ منورہ میں آپ نے انتقال فرمایا۔وہیں حضور کا مزار مبارک ہے۔✰✰✰