راہ ھدیٰ — Page 55
۵۵ انظر الى برحمته و تحنن یاسیدی انا احقر الغلمان ترجمہ : اے میرے آقا میں آپ کا ادنی غلام ہوں مجھ پر محبت و شفقت کی نظر ڈالیں۔پھر فرمایا۔" ہم پر جو اللہ تعالی کے فضل ہیں۔یہ سب رسول اکرم کے فیض سے ہی ہیں۔آنحضرت سے الگ ہو کر ہم سچ کہتے ہیں کہ کچھ بھی نہیں اور خاک بھی نہیں۔آنحضرت کی عزت اور مرتبہ دل میں اور ہر رگ و ریشہ میں ایسا سمایا ہے کہ ان کو اس درجہ سے خبر تک بھی نہیں۔کوئی ہزار تپسیا کرے ، جب کرے ، ریاضت شاقہ اور مشقتوں سے مشت استخوان ہی کیوں نہ رہ جائے مگر ہرگز کوئی سچا روحانی فیض بجز آنحضرت کی پیروی اور اتباع کے کبھی میتر آ سکتا ہی نہیں اور ممکن ہی نہیں۔" (الحکم ۱۱۸ مئی ۱۹۰۸ صفحه ۴) عقیدہ نمبرے" (صفحه ۱۹) اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب لکھتے ہیں " قرآن کریم کے مطابق صاحب کوثر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور قادیانی عقیدہ یہ ہے۔کہ آیت إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ مرزا صاحب کے حق میں ہے۔" یہ بھی سراسر ایک شیطانی جھوٹ ہے۔ہمارا تو یہ ایمان ہے جو شخص یہ سمجھے کہ یہ آیت کریمہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نہیں بلکہ کسی اور کے متعلق ہے۔وہ ایک بدبخت انسان ہے۔لدھیانوی صاحب نے محض نمبر شمار بڑھانے کے لئے حضرت مرزا صاحب کا ایک اور الہام درج کر کے جو قرآن کریم کی آیت بھی ہے عقیدہ نمبرے کے تحت دہرا دیا ہے۔حضرت مرزا صاحب نے کہیں نہیں لکھا کہ آیت اِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ کے مخاطب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہیں۔بلکہ میں مخاطب ہوں۔دعقید نمبر ۱۸ اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب لکھتے ہیں " قرآنی عقیدہ ہے کہ صاحب اسراء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔کمر قادیانی عقیدہ ہے کہ صاحب اسراء بھی مرزا صاحب ہیں کیونکہ آیت "سبحن الذی اسرى بعبدہ ان پر نازل ہوئی ہے۔(صفحہ ۱۹) قارئین کرام ! حضرت مرزا صاحب نے ہرگز یہ نہیں لکھا کہ صاحب اسراء رسول اللہ