راہ ھدیٰ — Page 54
۵۴ صلی اللہ علیہ وسلم کو معزول یا کالعدم کرنے کی خبیثانہ جسارت کی ہے اسی طرح بروز خاتم ہونے کے دعویدار کے متعلق یہ جاہلانہ حملہ کہ وہ اسی کو ختم کرنے کا دعویدار ہے جس کے بروز ہونے کا وہ دعوی کر رہا ہے ، یا تو پرلے درجے کی جہالت ہے یا پھر حد سے بڑھا ہوا بغض و عناد ہے، اس کے سوا کوئی اور معنے نہیں لئے جاسکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنے مقام کے بارہ میں جو تحریرات گذشتہ صفحات میں گذر چکی ہیں بہت کافی ہیں۔ان سے اہل بصیرت مطمئن ہو چکے ہیں لیکن چونکہ لدھیانوی صاحب بار بار اپنے دعوے کو دہرا رہے ہیں اس لئے اگر حضرت مرزا صاحب کی ایسی تحریرات سے ایک دو اور اقتباس پیش کر دیئے جائیں تو مضائقہ نہیں قبل اس کے کہ ہم یہ اقتباس پیش کریں ہم مولوی صاحب کو نیہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ یہ اعتراض اس سے بہت بڑھ کر عیسیٰ علیہ السلام پر وارد ہو گا اگر وہ دوبارہ امت محمدیہ میں تشریف لائے جیسا کہ ان مولوی صاحب کا عقیدہ ہے۔کیونکہ عیسیٰ کی بعثت ثانی کے بارہ میں خود مولوی صاحب کے بزرگ جناب قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند فرماتے ہیں۔بهر حال اگر خاتمیت میں حضرت مسیح علیہ السلام کو حضور سے کامل مناسبت دی گئی تھی تو اخلاق خاتمیت اور مقام خاتمیت میں بھی مخصوص مشابہت و مناسبت دی گئی۔جس سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت عیسوی کو بارگاہ محمدی سے خُلقاً و خلقاً وتباو مقلماً ایسی ہی مناسبت ہے جیسی کہ ایک چیز کے دو شریکوں میں یا باپ بیٹوں میں ہونی چاہئے " تعلیمات اسلام اور مسیحی اقوام صفحہ ۱۲۹ از قاری محمد طیب مہتم دارالعلوم دیوبند پاکستانی ایڈیشن اول مطبوعہ مئی ۱۹۸۶ء نفیس اکیڈمی کراچی) یہ بات تو محض ان کو اعتراض کا مزہ چکھانے کے لئے کی گئی تھی تاکہ معتدل ہو کر بات کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔اب ہم حضرت مرزا صاحب کی مزید دو تحریرات اس پر روشنی ڈالنے کے لئے پیش کرتے ہیں۔جن سے آپ اندازہ لگا سکیں گے کہ حضرت مرزا صاحب نے اگر حضرت خاتم الانبیاء کا بروز ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر اپنا کیا مقام سمجھا ہے۔فرمایا