راہ ھدیٰ — Page 53
۵۳ بروزی طور پر خاتم النبیین ہوں۔چنانچہ خود لدھیانوی صاحب نے بھی اس عنوان کے نیچے لکھا ہے۔" مرزا صاحب لکھتے ہیں : ا۔" میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت ” وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ" روزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں۔" ایک غلطی کا ازالہ ) ۲ و پس چونکہ میں اس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں مگر بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعوئی اور نئے کام کے ، بلکہ اس نبی کریم خاتم الانبیاء کا نام پاکر اور اسی میں ہو کر اور اسی کا مظہر بن کر آیا ( نزول المسیح صفحه ۲) ہوں۔( بحوالہ لدھیانوی صاحب کا رسالہ ” قادیانیوں کو دعوت اسلام » صفحہ ۱۸) قارئین کرام ! دوسرے حوالہ میں مظہر کا لفظ ہی قابل غور ہے جو بتاتا ہے کہ اصل خاتم النیسین آپ نہیں ہیں۔اصل خاتم انسین کوئی اور ہے اور آپ اس کے مظہر ہیں۔جہاں تک لدھیانوی صاحب کی اس کوشش کا تعلق ہے کہ یہ تاثر پیدا کریں کہ بروزی طور پر خاتم ہونے کے دعوئی کا مطلب یہ ہے کہ گویا مرزا صاحب کے نزدیک اصل کا زمانہ بروز کے ظاہر ہونے کے ساتھ ختم ہو گیا اور جب بروز ظاہر ہو گیا تو اس کا زمانہ شروع ہو گیا سراسر جماعت احمدیہ پر بہتان ہے۔اور حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔جیسا کہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ خود مولانا صاحب کے پیرو مرشد بھی لفظ کل اور بروز کا استعمال کر چکے ہیں اور اس کی تشریح بھی کر چکے ہیں۔بروز ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اصل ختم اور بروز شروع بروز رہتا ہی اس وقت تک ہے۔جب اصل اپنی پوری شان کے ساتھ موجود رہے۔بروز کا معنی اس سے مختلف سمجھنے والے کی مثال ایسی ہی ہے کہ کوئی بے وقوف شیشے میں سورج کا عکس دیکھ کر کہے کہ سورج کی اب کوئی حیثیت نہیں رہی بلکہ عکس ہی اصل ہے۔یا چاند کی وساطت سے سورج کی روشنی پا کر سمجھے کہ چاند نے سورج کو منسوخ کر دیا یا کسی کا سایہ دیکھ کر یہ جاہلانہ دعوی کرے کہ اس سامیہ نے اس کو کالعدم کر دیا جس کا یہ سایہ تھا۔پس جیسا کہ گذشتہ بزرگوں کی واضح تحریرات سے ثابت کیا جاچکا ہے کہ اگر کوئی بروز محمد ہونے کا دعوئی کرتا ہے تو یہ شیطانی خیال ہر گز اس کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے نعوذ باللہ محمد