راہ ھدیٰ — Page 29
۲۹ ترجمہ : بنی اسرائیل کے بہتر فرقے ہو گئے تھے اور میری امت کے تہتر فرقے ہو جائیں : - گے ان تہتر میں سے سوائے ایک فرقہ کے باقی سب فرقے دوزخ میں جائیں گے۔16 ٥ خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَفْضُو الْكَذِبُ۔( ترمذی ابواب الشهادات باب ما جاء في شهادة الزور ) ترجمہ : بهترین لوگ میری صدی کے ہیں پھر دوسری اور پھر تیسری صدی کے اس کے بعد جھوٹ پھیل جائے گا۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود آخری زمانہ میں امت میں ظاہر ہونے والے فسادات کا جس تفصیل سے نقشہ کھینچا ہے اسے کفر کہنے والا کم بخت ، خود کیا کہلائے گا۔جہالت اور حماقت جب مرکب ہو جاتی ہیں تو ایسا ایسا مولوی پیدا ہوتا ہے کہ جو حملہ کرتے وقت یہ بھی نہیں سوچتا کہ اس کا رخ کس طرف ہے ؟ تمام مشاہیر نے جو اس زمانے میں گمراہی کے نقشے کھینچے ہیں جو لدھیانوی صاحب کے نزدیک " کفر صریح ہے اس کی چند مثالیں بنا کر اس فصل کو ہم ختم کرتے ہیں۔لدھیانوی صاحب کہتے ہیں کہ کوئی مسلمان بھی امت محمدیہ میں عام گمراہی کے پھیل جانے کا قائل نہیں ہے چنانچہ وہ اسے " صریح کفر " قرار دیتے ہیں۔آیئے ان کے اس دعوئی کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ لدھیانوی صاحب کے بقول کون کون مسلمان اس صریح کفر کا مرتکب ہوا ہے۔ا۔مولانا الطاف حسین حالی مرحوم نے ۱۸۷۹ء میں اپنی مشہور مسدس میں لکھا۔رہا دین باقی نہ اسلام باقی۔اک اسلام کا رہ گیا نام باقی پھر اسلام کو ایک باغ سے تشبیہ دے کر فرماتے ہیں۔پھر اک باغ دیکھے گا اجزا سراسر جہاں خاک اڑتی ہے ہر سو برابر نہیں زندگی کا کہیں نام جس پر ہری ٹہنیاں جھڑ گئیں جس کی بل کر 2 (مسدس حالی بند نمبر (۱۰۸)