راہ ھدیٰ — Page 170
: آپ کر رہے ہیں اور جب احمدیوں والی تشریح عین کی سنیں گے تو بفضلہ تعالی عیسائیت کے دار سے محفوظ ہو جائیں گے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ مولوی صاحب کا یہ حملہ محض لفظی چالا کی ہے اس لئے ہم نے انہیں ایسا جواب دیا کہ ان کے ذہن میں سما جائے کہ اس قسم کی لفظی چالاکیوں سے کام نہیں چلتا۔اس قسم کی باتیں زیادہ شدت سے آپ پر اکنائی جاسکتی ہیں۔جہاں تک احمد یہ عقائد سے عیسائیت کے عقیدوں کو تقویت ملنے کا تعلق ہے یہ ادنیٰ اور اعلیٰ خوب جانتا ہے کہ وہ کونسی جماعت ہے جس سے دنیا بھر میں کلیسیا کی جماعتوں پر لرزہ طاری ہے اور وہ کون سے عقائد ہیں جنہوں نے فی زمانہ دنیا میں صلیب کی کمر توڑ دی ہے۔مولوی صاحب کو تو اپنے بزرگوں کی عبارتیں بھی یاد نہیں ورنہ مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کے ترجمہ قرآن کے حاشیہ پر مولانا نور محمد صاحب نقشبندی کا یہ تبصرہ ہمیشہ لدھیانوی صاحب کا منہ چڑاتا رہے گا کہ۔اسی زمانہ میں پادری لیفرائے پادریوں کی ایک بڑی جماعت لے کر اور حلف اٹھا کر ولایت سے چلا کہ تھوڑے عرصہ میں تمام ہندوستان کو عیسائی بنالوں گا۔ولایت کے انگریزوں سے روپیہ کی بہت بڑی مدد اور آئندہ کی مدد کے مسلسل وعدوں کا اقرار لے کر ہندوستان میں داخل ہو کر بڑا تلاطم برپا کیا اسلام کی سیرت و احکام پر جو اس کا حملہ ہوا تو وہ ناکام ثابت ہوا کیونکہ احکام اسلام و سیرت رسول اور احکام انبیاء بنی اسرائیل اور ان کی سیرت جن پر اس کا ایمان تھا یکساں تھے۔پس الزامی و نقلی و عقلی جوابوں سے ہار گیا مگر حضرت عیسی" کے آسمان پر بجسم خاکی زندہ موجود ہونے اور دوسرے انبیاء کے زمین میں مدفون ہونے کا حملہ عوام کے لئے اس کے خیال میں کارگر ہوا۔تب مولوی غلام احمد قادیانی کھڑے ہو گئے اور لیفرائے اور اس کی جماعت سے کہا کہ عیسی" جس کا تم نام لیتے ہو دوسرے انسانوں کی طرح سے فوت ہو کر دفن ہو چکے ہیں۔اور جس عیسی کے آنے کی خبر ہے وہ میں ہوں پس اگر تم سعادت مند ہو تو مجھ کو قبول کر لو اس ترکیب سے اس نے لیفرائے کو اس قدر تنگ کیا کہ اس کو اپنا پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا اور اس ترکیب سے اس نے ہندوستان سے لے کر ولایت تک کے پادریوں کو شکست دے دی " (دیباچه معجز نما کلاں قرآن شریف مترجم صفحه ۳۰ مطبوعہ ۱۹۳۴ء) پس ثابت ہوا کہ عیسائیت کو تقویت دینے والے آنجناب لدھیانوی صاحب کے عقیدے