راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 146 of 198

راہ ھدیٰ — Page 146

ایمان لاؤ اور اس کی کیفیت میں دخل نہ دو اور حقیقت حوالہ بخدا کرو اور یقین رکھو کہ خدا اتخاذ ولد سے پاک ہے تاہم متشابہات کے رنگ میں بہت کچھ اس کے کلام میں پایا جاتا ہے پس اس سے بچو کہ متشابہات کی پیروی کرو اور ہلاک ہو جاؤ اور میری نسبت بینات میں سے یہ الہام ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے قل انما انا بشر مثلكم يو حى الى انما الهكم الله واحد و الخير كله في القرآن وافع البلاء صفحہ ۷۶ حاشیہ روحانی خزائن جلد ۱۸ حاشیه صفحه ۲۲۷) یہ قطعی طور پر مولویوں کی بددیانتی ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی اس عبارت کے ہوتے ہوئے بھی ان کی طرف شرک منسوب کریں۔اس ضمن میں حضرت مرزا صاحب کی ایک عاشقانہ تحریر اس قسم کی بحثوں کا قضیہ ایک اور طرح بھی چکا دیتی ہے۔آپ فرماتے ہیں خدا میں فانی ہونے والے اطفال اللہ کہلاتے ہیں لیکن یہ نہیں کہ وہ خدا کے در حقیقت بیٹے ہیں۔کیونکہ یہ تو کلمہ کفر ہے اور خدا بیٹوں سے پاک ہے بلکہ اس لئے استعارہ کے رنگ میں وہ خدا کے بیٹے کہلاتے ہیں کہ وہ بچہ کی طرح ولی جوش سے خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں اسی مرتبہ کی طرف قرآن شریف میں اشارہ کر کے فرمایا گیا ہے " فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكُرِ كُمُ أبَاءَكُمْ أَوَ ادَّ ذكر ا یعنی خدا کو ایسی محبت اور دلی جوش سے یاد کرو جیسا کہ بچہ اپنے باپ کو یاد کرتا ہے۔اسی بناء پر ہر ایک قوم کی کتابوں میں آب یا پتا کے نام سے خدا کو پکارا گیا ہے اور خدا تعالی کو استعارہ کے رنگ میں ماں سے بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یہ کہ جیسے ماں اپنے پیٹ میں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ کے پیارے بندے خدا کی محبت کی گود میں پرورش پاتے ہیں اور ایک گندی فطرت سے ایک پاک جسم انہیں ملتا ہے۔سو اولیاء کو جو صوفی اطفال حق کہتے ہیں یہ صرف ایک استعارہ ہے ورنہ خدا اطفال سے پاک اور لَم يَلِدُ ولَم تتمه حقیقته الوحی روحانی خزائن جلد نمبر ۲۲ صفحه (۱۴۴) يُولد ہے" عقیده نمبر ۱۸ اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب لکھتے ہیں۔