راہ ھدیٰ — Page 145
۴۵ روشنی ڈال چکے ہیں دیکھئے حضرت مولانا روم فرماتے ہیں۔ع اولیاء اطفال حق انداے پر که اولیاء مجازی طور پر خدا کے بیٹے ہیں الهام منظوم ترجمه مثنوی مولانا روم دفتر سوم صفحه ۱۳ مرتبه مولوی فیروز الدین مطبوعه ۱۳۴۷ ) لیکن سب سے بڑے عارف باللہ جو کائنات میں کبھی پیدا ہوئے وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے پس سب سے زیادہ توحید کی غیرت رکھنے والا آپ ہی کا وجود تھا افسوس یہ ہے کہ یہ مولوی صاحب کیسے کو رباطن ہیں کہ نہ آیات قرآنیہ پر ان کی نظر پڑی نہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پر معارف کلام پر کہ " الْخَلْقُ عَمَالُ اللَّهِ لَا حَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللَّهِ مَنْ أَحْسَنَ إِلى عَمَالِهِ" مشکوة کتاب الادب باب الشفقه ) کہ مخلوق اللہ تعالی کا کنبہ یعنی اس کی اولاد ہے پس جو شخص اللہ تعالٰی کے کنبہ کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے وہ خدا کا محبوب ترین بندہ ہے۔لیکن افسوس کہ عدم عرفان کی بحث نہیں یہ مولوی صاحب تو بلاشبہ حق دیکھتے ہوئے بھی اس سے اعراض کرتے ہیں اور غیروں کو باطل بنا کر دکھاتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جس الہام پر یہ پھبتیاں کس رہے ہیں اور اس سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ مرزا صاحب نے خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ بھی کر دیا ہے اب دیکھئے اس الہام کی تشریح حضرت مرزا صاحب نے کیا فرمائی جو خود سمجھی اور سمجھائی اس کے خلاف تشریح کرنے کا کسی کو کیا حق ہے سوائے اس کے کہ کسی کی فطرت گندی ہو۔آپ فرماتے ہیں: " یاد رہے خدا تعالی بیٹوں سے پاک ہے نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ بیٹا ہے اور نہ کسی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں لیکن یہ فقرہ ( انت منی بمنزلة اولادی - ناقل ) اس جگہ قبیل مجاز اور استعارہ میں سے ہے خدا تعالٰی نے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا اور فرمایا بَدُ اللَّهِ فَوقَ الدِیهِمُ ایسا ہی بجائے قُلْ يَا عِبَادَ اللہ کے قُلْ يَا عِبَادِی بھی کہا اور یہ بھی فرمایا فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكُرِكُم ایک کم۔پس اس خدا کے کلام کو ہوشیاری اور احتیاط سے پڑھو اور از قبیل متشابہات سمجھ کر